ایران میں کورونا وائرس کا پروپیگنڈا پھیلاکرووٹرز کی حوصلہ شکنی کی گئی، خامنہ ای

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے غیر ملکی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ تہران میں کورونا وائرس کے پھیلائو کی خبر نشر کرکے عام انتخابات میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق سپریم لیڈر نے کہا کہ ‘یہ منفی پروپیگنڈا چند ماہ قبل شروع ہوا اور انتخابات کے قریب آتے ہی اس میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا’۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں مغربی میڈیا نے بیماری اور وائرس کے بہانے لوگوں کو انتخابی عمل میں شرکت سے روکنے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ (ہمارے دشمن) انتخابات کے مخالف ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے ایران میں 5 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایران مشرق وسطیٰ میں پہلا ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس کے پیش نظر ایران میں 14 صوبوں کے اسکول، جامعات اور دیگر تعلیمی مراکز کو ‘احتیاطی اقدام’ کے طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس ضمن میں حکام نے بتایا کہ تہران کے سٹی ہال میں میٹرو اسٹیشنز میں قائم دکانیں اور پانی کے چشمے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تہران کی ضلعی انتظامیہ کے تعلقات عامہ کے سربراہ غلام مرزا محمدی نے بتایا کہ بسوں اور زیرزمین ٹرینوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

علاوہ ازیں تہران سمیت دیگر شہروں میں وسیع و عریض پوسٹرز بھی لگائے لگئے ہیں جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ کورونا وائرس سے بچاو¿ مہم کے تحت وہ مصافحہ کرنے سے اجتناب کریں۔

ادھر عالمی ادارہ برائے صحت کی جانب سے بھی ایران میں COVID-19 وائرس پھیل جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں نئی پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے جس کے ٹرن آو¿ٹ پر لوگوں کی گہری نظر ہے۔

اصلاح پسند اور اعتدال پسندوں سمیت 7 ہزار سے زائد امیدوار نااہل قرار پانے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرن آئوٹ کا تناسب معمول سے کم ہوگا۔

290 نشستوں کے ایوان کے لیے 208 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی۔

رواں ہفتے کے آغاز میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ زیادہ ووٹ ڈالنے سے ‘ایران کے خلاف امریکیوں اور اسرائیل کے حامیوں کی سازشیں اور منصوبے ناکام ہوجائیں گے’۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی کونسل کے دو اعلیٰ عہدیداروں اور انتخابی نگران کمیٹی کے تین ممبران پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں 7 ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دینا، ایران کے عوام کی آواز کو خاموش کرانے کے مترادف ہے۔

Share This Article
Leave a Comment