انسان کے چند رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نبھائے بغیر اس کا وجود مکمل ہی نہیں ہوتا۔ ان رشتوں کا حق ادا کرنا ہر انسان کا فرض بن جاتا ہے ہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ان رشتوں کو نبھانے کی سعی بھی نہیں کرتا کیوںکہ انہیں مقدس رشتوں کا احساس ہی نہیں۔ اور جو ان رشتوں کا پس رکھتے ہیں وہ منفرد ہوتے ہیں ۔ انہی منفرد ہستیوں میں ایک نورا بھی تھا۔۔۔نورا۔۔۔میجر۔۔۔پیرک۔۔۔ وہ حقیقتاً سب سے منفرد تھا اسی لیے اس نے ان رشتوں بالخصوص مادر وطن کے ساتھ تعلق کو سب سے مقدس مقام پہ رکھا۔۔۔ جب ہم نورا کا کردار دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک ہی چیز نظر آتی ہے اور وہ تھا وطن ، وطن ۔۔۔اول وطن، آخر وطن۔
جب ہم شہید نورا کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو نورا نے وطن کے دفاع کی جنگ ہر سطح پہ لڑی چاہے وہ مسلح جدوجہد ہو یا پر امن ۔ پر امن جدوجہد کے لیے انہوں نے بلوچ طلبا تنظیم (BSO azad)کے پلیٹ فارم سے جدوجہد شروع کی۔ دوران طالب علمی وہ کافی متحرک تھا اور ان کی کوشش رہی کہ وہ علمی و شعوری بنیاد پر اپنی قوم کو تیار کرے اس حوالے سے وہ کامیاب بھی ۔ علم و شعور سے آراستہ ہمارا نورا ایک سیمبل تھا اسی لیے قابض نے اسے اس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا جب وہ لاہور میں زیر تعلیم تھا۔ قابض ریاست کے اس ظلم و ستم کے بعد شہید نورا کو اس بات کا ادراک ہوا کہ اب ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ ہے مسلح جدوجہد۔۔۔ اسی لیے جوں ہی وہ قابض کے عقوبت خانوں سے بازیاب ہوتاہے تو بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF)کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد شروع کرتا ہے۔اور ایک مختصر مدت میں نورا جدوجہد کی علامت بن جاتا ہے۔
نورا کو اپنے وطن کی مٹی سے دیوانگی کی حد تک محبت تھی اسی لیے وہ جولائی کی لو چلتی ہواﺅں میں سکون محسوس کرتا اور زمستان کی یخ بستہ ہواﺅں میں لبوں پہ مسکراہٹ لیے دیوانہ وار جھوم اٹھتا۔۔۔ کیوں کہ نورا نے وطن سے محبت کو زندگی کا مقصد بنایا تھا اور اس مقصد کے لیے وہ اصولی جدوجہد کی راہ پہ گامزن تھا ۔ اس سفر میں نورا ایک شاخ سے تناور درخت بن چکا تھا درخت بھی ایسا جس کا سایہ ہر وقت اپنوں کے سر رہے اور جس کے پھل سے بس اپنے ہی مستفید ہوں۔
نورا کی سرزمین سے یہی محبت تھی جس کی وجہ سے سرزمین نورا سے امیدیں لگا بیٹھی تھی کہ نورا میری دفاع میں تاریخی کارنامے سرانجام دے گا اور ہوا بھی یوں ہی ۔۔۔ اور نورا نے وہ کار نامے سرانجام دیے جو اپنی مثال آپ ہیں۔
نورا عظیم فکرو نظریہ سے مالا مال وطن اور قوم دوست ہستی تھا جنہوں نے چھوٹی عمر میں بڑے کارنامے سرانجام دیے۔ سیاسی میدان سے لیکر جنگی محاذ تک بہادری اور ایمانداری سے سرزمین کی دفاع کے لیے دشمن کے سامنے ایک چٹان کی طرح کھڑا رہا ۔ اپنی مہر و محبت کے سائے میں اپنے نظریاتی دوستوں کی رہنمائی کرتا رہا۔ نورا اپنے دوستوں کے لیے اس درخت کی مانند تھا جو گرم صحرا میں خود تو سورج کی گرم شعاعوں سے جلتا لیکن دوستوں دوستوں کو ٹھنڈی سایہ مہیا کرتا ۔ نورا اپنے وطن کے دشمنوں کے لیے صحرا کی حیثیت رکھتا تھا جس کی شدت سے کوئی دشمن کامیابی سے اسے پار نہیں کرسکتا۔ نورا دشمن کے لیے سرمئی بولان کی بلند چٹانوں کی حیثیت رکھتا تھاجو دشمنوں کے لیے موت اور اپنوں کے لیے مہر کا سامان مہیا کرنے کے مترادف ہےں۔ نورا نے وطن کے دفاع کے لیے دشمن کو ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ بلوچ کبھی بھی غیروں کو اپنے مادر وطن میں قدم جمانے نہیں دیں گے۔ دشمن جہاں بھی ظلم کی انتہا کرتا نورا وہاں قہر بن کے دشمن پہ ٹوٹ پڑتا، پروم ، پنجگور، آواران الغرض بلوچستان کے دشت و بیابان اور کو ہ و جبل جہاں نورا کی ضرورت پڑتی نورا مادر وطن کی خدمت پہ خود کو اپنے دوستوں کے ساتھ مامور کرتا اور دشمن پہ حملہ آور ہوتے ہوئے اسے شکست سے دوچار کرتا۔ نورا اپنی پوری جدوجہد میں دشمن کی تھاک میں بیٹھا رہا اور بندوک تھام کر آزادی کا خواب آنکھوں میں سمائے دشمن کو ہر محاذ پہ شکست سے دوچار کرتا رہا۔ سی پیک جو کہ بلوچستان اور بلوچ عوام کے لیے موت کا منصوبہ ہے نورا نے اس سامراجی منصوبے پہ ایسی داستانیں رقم کیں جن کی نظیر نہیں ملتی اور آج بھی اس راہ میں نورا کی بہادری کے قصے مشہور ہیں کہ نورا نے دشمن کو کن اذیتوں سے دوچار کیا اور اس روٹ پر شاید ہی ایسا کوئی فوجی چوکی بچا ہوا جسے نورا نے دشمن کے لہو میں نہ ڈبویا ہو۔
اپنی جدوجہد کے دوران نے نورا نے کبھی سکھ کا سانس نہیں لیا اور شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جہاں نورا دشمن پہ قہر بن کے نہ برسا ہو اور دشمن کو یہ پیغام نہ دیا ہو کہ یہ ہماری سرزمین ہے ہم اسے غیروں کے رحم و کرم پہ دیکھ نہیں سکتے ، یہاں کے فرزند اپنی سرزمین کے لیے اپنے لہو کا آخری قطرہ تک بہائیں گے پر دشمن کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے۔ دشمن نے نورا کو مارنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ہر بار کامیابی نورا کے حصے میں آتا اور شکست دشمن کا مقدر بن جاتا۔۔۔ لیکن ستم کے دشمن نے نورا کو شہید کرنے کے لیے اپنے آقاﺅں انگریزوں کی وہی چال چلی جو نورا مینگل کے خلاف چلائی گئی تھی جہاں چند کوڑیوں کے دام بھکنے والوں کو استعمال کیا گیا اور اپنے ان پالے ہوئے کرائے کے قاتل اور وطن فروش میں حبیب اللہ نوشیروانی کے ذریعے نورا مینگل کو دھوکے سے گرفتار کرکے انگیرزوں کے حوالے کیا گیا۔اسی طرح میجر نورا کو مقامی دلالوں کے ہاتھوں دھوکے سے بلا کرشہید کیا گیا اور 28اپریل2020ءکو میجر نورا اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے گھیرے میں آنے کے باوجود بہادری سے 24گھنٹوں تک لڑتارہا اور آخری سانس تک دشمن کا بہادری سے مقابلہ کرتا ہوا وطن کے لیے خود کو قربان کیا ۔ اور دشمن کو یہ پیغام دیا کہ نورا نہ کبھی جھکا ہے اور نہ کبھی دشمن کے سامنے جھک سکتا ہے نورا وطن کا فرزند ہے اور وطن کے لیے اپنے لہو کا آخری قطرہ تک بہائے گا۔ نورا اپنے فلسفے پہ قائم رہا اور یوں ایسی تاریخ رقم کی جس کے کردار اور کارناموں کے بنا ہماری قومی تاریخ ادھوری ہے۔
٭٭٭