دنیا میں جاری اقتصادی وسیاسی مفادات کا کھیل ہر گزرتے دن کے ساتھ انتہائی خون ریز،بے رحم، تصادم آمیز اور پیچیدہ ہوتا چلاجارہا ہے، تشویش ناک امریہ ہیکہ اس کھیل کا نہ کوئی ایمپائر ہے اور نہ ہی اس کے خاتمے کا کوئی ایک مخصوص وقت مقرر ہے، جبکہ اس کھیل میں ہر طرح کی بے قاعدگی وبے ضابطگی اور لا قانونیت جائز ہے، البتہ طاقت قانون کا درجہ رکھتی ہے جس کی اس سامراجی مفاداتی کھیل کے تمام کھلاڑی اطاعت قبول کرتے ہیں، اسی لئے اپنے مفاداتی گول تک پہنچنے کیلئے ہرکوئی دانائی سے زیادہ طاقت پراپنا انحصار بڑھا رہا ہے، یہ طاقت عسکری، اقتصادی، سیاسی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف صورتوں کی حامل ہے، تاہم موجودہ دور میں کسی کا بھی تن تنہا سب سے زیادہ طاقتور بننا اور حریفوں پر غالب آنا ممکن نہیں رہا ہے، اسی لئے ہر کوئی ایسے اتحادیوں کی تلاش میں ہے جو اس کھیل میں ایک جیسے مفادات ومقاصد کا حامل ہو، لہذا اسی وجہ سے ماضی کے اتحادی آج کے حریف کی صورت میں سامنے آرہے ہیں، جس کی تازہ مثالیں پاکستان اور عرب تعلقات میں تلخیوں، روس انڈیا طویل ترین پارٹنر شپ میں دراڑوں، اسرائیل عرب قربتوں اور دیگر بین الاقوامی تعلقات میں تیزی سے آنے والے تغیر وتبدل کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
اگرچہ اس سامراجی مفاداتی کھیل کا میدان پورا کرہ ا رض ہے لیکن بعض خطے ایسے ہیں جو اس مفاداتی کھیل میں کامیابی کیلئے فیصلہ کن اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اس سلسلے میں مشرق وسطی سمیت مغربی ایشیاء اور شمالی افریقہ موجودہ عالمی سیاسی منظر نامے میں سب سے زیادہ پر انتشار اور متحارب طاقتوں کے درمیان باہمی ٹکراؤ کا ایک بڑا مرکز نظر آتے ہیں، یہاں جنم لینے والے پرتشدد اور تصادم خیز حالات و واقعات اطراف کے خطوں سمیت پوری دنیا کی معیشت وسیاست پربرا ہ ر است اثر انداز ہورہے ہیں، اسی کیفیت کے پیش نظر یہ خدشہ روز بروز تقویت حاصل کررہا ہیکہ مشرق وسطی کا بحران کسی بڑی علاقائی وعالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ خطے کی طاقتور باہم متحارب وحریف قوتیں جن میں ترکی، ایران، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سب سے نمایاں ہیں کے درمیان جاری ٹکراؤ اور تناؤ کم ہونے کی بجائے شدت اختیار کر رہا ہے اور ہر فریق دیگر مسائل پر توجہ دینے کی بجائے جنگی تیاریوں میں مصروف نظر آتا ہے، جس کیلئے نہ صرف عسکری طاقت وسرگرمیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے بلکہ اتحادی صف بندیوں میں بھی وسعت لائی جارہی ہے، اس حوالے سے اسرائیل کے ساتھ عرب ومسلم ممالک کے تعلقات بحال کرنے کا عمل بھی اپنی شدت برقرار رکھے ہوئے ہے، اور اسرائیل کو گزشتہ دنوں مزید کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب شمالی افریقی عرب ملک مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا، رپورٹس کے مطابق مراکش کا یہ اعلان امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مغربی صحارا کے ایک متنازعہ علاقے پرمراکش کی خود مختاری یا قبضہ کو تسلیم اور قانونی طور پر جائز قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے یہ تاثر پایا جاتا ہیکہ اس معاہدے کو بھی اسرائیل سے ہونے والے امن معاہدوں کی طرح صرف امریکی دباؤ یا کوششوں کے باعث ہی عمل میں لایا جاسکا ہے، جس کیلئے امریکہ کو مراکش کی مغربی صحارا کے متنازعہ علاقے پولیساریو پر خود مختاری تسلیم کرنے کی شرط کو ماننا پڑا، لیکن بعض میڈیا رپورٹس موجودہ معاہدے اور اسرائیل اور مراکش کے مابین تعلقات کی تصویر اس کے برعکس پیش کررہی ہیں، ان رپورٹس کے مطابق مراکش ایک ایسا مسلمان عرب ملک رہا ہے جس کے اسرائیل سے گہرے خفیہ تعلقات رہے ہیں، ان تعلقات کے حوالے سے یہاں تک کہا جاتا ہیکہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی عرب ممالک کیخلاف سرگرمیوں میں مراکش معلومات کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، جس میں 1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مراکش کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کا کردار بھی شامل بتایا جاتا ہے، رپورٹس کے مطابق اسرائیل کیخلاف جنگ کے حوالے سے عرب ممالک کا جو اجلاس مراکش میں ہوا تھا اس کی تمام کارروائی سے آگا ہی کیلئے مراکش حکام نے موساد کو اپنی خفیہ جاسوسی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دے دی تھی جس کے باعث جنگ سے پہلے ہی اپنی تمام ترتیاری مکمل کرکے اسرائیل جنگ میں عرب اتحادیوں کو شکست دینے میں کامیاب رہا، اس کے علاوہ بھی اکثر مواقع پر مراکش اور اسرائیل کے درمیان گہرا قریبی باہمی تعاون جاری رہا، حالانکہ ظاہری طور پر مراکش دیگر عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والوں کی فہرست میں شامل رہا ہے، لیکن عملی طور پر مراکش اور اسرائیل ایک دوسرے کے دشمن کی بجائے دوست اور معاون رہے ہیں، ایسی صورت میں یہ مشکل نہیں تھا کہ جب دیگر عرب ممالک ایک ایک کر کے اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں اور سعودی عرب سمیت جو عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا باقاعدہ اعلان کرنے سے گریزاں ہیں مگر خفیہ یانیم خفیہ طور پر اسرائیل سے قربتیں بڑھا رہے ہیں مراکش کیلئے امریکہ کو شامل کئے بغیر براہ راست اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا باقاعدہ اعلان کوئی عجب نہ ہوتا، لیکن رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے مراکش کی سابقہ وفاداری کاصلہ دینے کیلئے ا مریکہ کو مجبور کیا کہ وہ اگر مغربی صحارا کے متنازعہ علاقے پولیساریو کو مراکش کا حصہ تسلیم کر لے تو مراکش اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کا اعلان کر دے گا، صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے مطالبے یا اصرار پر اس متنازعہ علاقے کو مراکش کا حصہ تسلیم کرلیا، اس اقدام سے مراکش اور اسرائیل کو تو فائدہ ہوا لیکن خطے میں ایک حل شدہ تنازعہ دوبارہ کھڑا ہو گیا ہے، کیونکہ اس متنازعہ خطے پراسپین کے قبضے کے خاتمے کے بعد یہاں رہنے والے مقامی قبائل یاآؓبا دی کی مراکش کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، مقامی آبادی اس خطے پراپنا حق ملکیت اور اس کی آزادی وخود مختار ی کی دعویدار ہے اور مراکش کی حکومت اسے اپنے قبضے میں رکھنا چاہتی ہے، اس تنازعے کو حل کرنے کیلئے 1990 ء میں اقوام متحدہ نے یہاں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا تھا، جو 1992ء میں منعقد ہونا تھا لیکن یہ تاحال عملی روپ نہیں دھار سکا، جبکہ اپنی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کے باعث امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری اسے مراکش کا قانونی حصہ تسلیم نہیں کرتی ہے، مگر اسرائیل کے دباؤ پر امریکہ کا اس علاقے پر مراکش کی خودمختاری تسلیم کرنا اقوام متحدہ کے معاہدوں واعلانات اور اقدامات کی سراسر پامالی تصور کیا جارہا ہے، جس کی مخالفت اور مزاحمت کا جنم لینا ناگزیر ہے، خاص طور پر خطے کی حالیہ انتشار زدہ اور پر تصادم کیفیت میں اس امرکا واضح امکان ہیکہ مراکش اسرائیل امن معاہدہ بدامنی وعدم استحکام میں مزید بڑھو تری لائے گا، جس کا مظاہرہ روسی ردعمل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، اس ضمن میں روس نے کھل کر امریکہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہیکہ وہ متنازعہ علاقے پر مراکش کی خود مختاری تسلیم نہیں کرے گا، اور مسلے کا حل اقوام متحدہ کے طئے شدہ ریفرنڈم کے انعقاد کے تحت ہی ہوگا، دوسری طرف اس متنازعہ علاقے کی علحیدگی پسند قیادت نے بھی امریکی اعلان کو مترد کرتے ہوئے کہا ہیکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اسی طرح نئے ابھرتے ہوئے عرب اسرائیل اتحاد جو امریکی چھتری تلے تشکیل پارہا ہے کی خطے میں مخالف اہم علاقائی طاقتیں ایران اور ترکی بھی یہاں خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کریں گے اور ان کا جھکاؤ مغربی صحارا کے متنازعہ علاقے کی علحیدگی پسند قوتوں کی طرف بڑھے گا، جس کی ایک شکل ظاہری سیاسی وسفارتی حمایت کے علاوہ عسکری امداد کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے، اس کانتیجہ ناگزیر طور پر مغربی صحارا کے اس امن میں داخل ہونے والے علاقے میں ایک بار پھر مسلح تصادم اور بدامنی کی نت نئی صورتوں میں بر آمد ہوگا، یوں مغربی ایشیاء پر منڈلانے والے جنگ اور تصادموں کے گہرے سیاہ بادل شمالی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے مغربی صحارا تک پھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب ایک غیر اعلانیہ جنگ میں بدلتی ہوئی نظر آتی ہے، اگرچہ یہ غیر اعلانیہ جنگ گزشتہ کچھ عرصہ سے جاری ہے لیکن ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور چوٹی کے نمبر ون ایٹمی سائنسدان کی تہران کے قریب ٹارگٹ کلنگ کے بعد اس جنگ میں اب شدت دیکھنے میں آرہی ہے، ایرانی سائنسدان کا قتل انتہائی جدید خود کاراسلحہ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا گیا، ایران نے اس کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے، جبکہ بعض عالمی ذرائع نے بھی اس واردات میں اسرائیل کو ملوث قرار دیا، تاہم اسرائیل نے نہ تو اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی، اس قتل کا بدلہ لینے کا اعلان ایران کا فطری ردعمل تھا، جس پر عمل درآمد بھی نا گزیر طور پر ہونا تھا اور اس واقعہ کے کچھ دن بعد ہی اسرائیل سے ایسی اطلاعات سامنے آئیں جن کے مطابق تل ابیب میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک انتہائی سینٹر عہدیدار کو ایک چورا ہے پر مسلح افراد نے گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کردیا، کہا جاتا ہیکہ موساد کا یہ سینٹر ترین عہدیدار ایرانی سائنسدان کے قتل کا منصوبہ ساز اور نگران تھا، حیرت انگیز طور پر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، اور اسرائیلی خفیہ وسیکیورٹی ادارے قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام رہے، اس واقعہ کو اسرائیل نے پوشیدہ رکھا مگر ایران میں جشن منایا گیا، اس کے علاوہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے اندرون خانہ مسلح اور دیگر کارروائیوں کی بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، دوسری طرف اسرائیل بھی ایران کیخلاف مسلح کارروائیوں میں تیزی لارہا ہے، اس سلسلے میں اسرائیل اپنے عرب اتحادیوں خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایران کیخلاف دفاعی شراکت داری قائم کررہا ہے، ایسی صورت میں یہ واضح امکان نظر آتا ہیکہ ایران کیخلاف ممکنہ جنگ میں اسرائیل تنہا نہیں ہوگا بلکہ سعودی عرب اور یو اے ای شانہ بشانہ ہوں گے، جبکہ امریکہ بھی ایران پر حملے کی اپنی دیرینہ خواہش کو پوری کرے گا، جس کے آثار علاقے میں امریکی جنگی بحری بیڑوں کی آمد اور ایٹمی جنگی بحری جہازوں اور دیگر عسکری سازوسامان کی منتقلی میں بڑے نمایاں نظر آتے ہیں، موجودہ تناؤ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خطے میں کسی بھی وقت ایک بڑا تصادم یا جنگ شروع ہو سکتی ہے، اس حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہیکہ اس جنگ کا آغاز 20 جنوری 2021 ء سے قبل بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ 20 جنوری کو ڈونلڈٹرمپ امریکہ کے صدر نہیں رہیں گے اور ان کی جگہ نئے منتخب امریکی صدر جوبائیڈن اقتدار سنبھالیں گے، جوبائیڈن چونکہ ایران پر حملے کے حامی نہیں ہیں اور وہ ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر معاہدے یا سمجھوتے کے قائل ہیں، لہذا وہ ایران کیخلاف کسی بھی فوج کا رروائی میں نہ صرف حصہ نہیں لیں گے بلکہ اس کی حمایت بھی نہیں کریں گے، کیونکہ جوبائیڈن ڈیموکرٹیک پارٹی کی مشرق وسطی کے بارے میں اس پالیسی کو جاری رکھنے کے دعویدار بتائے جاتے ہیں جو سابق صدر اوبامہ کے دور میں اختیار کی گئی تھی، جس کے مطابق وہ مشرق وسطی میں سعودی عرب یا ایران کی یک طرفہ بالادستی کی بجائے دونوں کی خطے کے معاملات میں یکساں حصہ داری کو مسائل کے حل میں بدد گار تصور کرتے تھے، اسی لئے انہوں نے ایرانی ایٹمی پراگرام کے علاوہ یمن کے مسلے پر سعودی عرب کی اس طرح اندھی تقلید اور حمایت نہیں کی تھی جس طرح ان کے بعد آنے والے صدر ٹرمپ نے ایران کیخلاف سعودی عرب اور اسرائیل کی انتہائی شدت سے یک طرفہ طور پر تقلید وحمایت کی ہے، کچھ ایسی ہی اختلافی پالیسی اسرائیل کے بارے میں بھی نظر آتی ہے، جس کے باعث اسرائیل اورعرب اتحادیوں کو یہ فکر لاحق ہیکہ اگر جوبائیدن صدر ٹرمپ کی پالیسی کے برعکس کوئی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو وہ ایران کو نہ صرف اقتصادی و سیاسی طور پر مضبوط کرے گی بلکہ اس سے خطے میں ایران کا اثر رسوخ بھی بڑھے گا اور اس کے علاوہ اپنی ایٹمی تنصیبات محفوظ رکھتے ہوئے ایک دن ایٹم بم بنانے میں بھی کامیاب ہو جائے گا جس کے بعد اسے شکست دینا آسان نہیں ہوگا، جبکہ دوسری طرف بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہیکہ انہی خدشات کے پیش نظر اسرائیل اور عرب اتحادی صدر ٹرمپ کے دور صدارت میں ہی ایران کیخلاف ایک ایسی بھرپور فوجی کارروائی کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے نہ صرف ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ اور ایران کو فوجی واقتصادی طور پر نا قابل تلافی نقصان پہنچایا جائے بلکہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن کیلئے بھی خطے میں ایسی مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کردی جائیں کہ وہ اپنی نئی پالیسی کو آسانی سے لاگونہ کرسکے اور پورا خطہ مسلسل بحران کا شکار رہے، ان حالات میں بظاہر ایسا لگتا ہیکہ شاید جو بائیڈن کی آمد کے بعد ایران کیلئے ہر طرح کی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی اور جوبائیڈن مشرق وسطی سمیت مغربی ایشیا میں اسرائیل اور عرب اتحادیوں سے وابستہ گہرے امریکی مفادات سے منہ موڑلے گا، تاہم ایسی کسی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا، البتہ مفادات کے حصول کیلئے طریقہ کار میں تبدیلی آسکتی ہے، جو اسی صورت میں ممکن ہیکہ جب ایران نئی امریکی انتظامیہ کی خواہشات اور مفادات پر پورا اترے، یہ خوہشات ایٹمی پروگرام کے ساتھ اب اضافی طور پر ایرانی میزائل پروگرام اور دیگر دفاعی سازو سامان کی تیاری و سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ہیں، اور ان میں ایران کی روس اور چین کے ساتھ گہری دفاعی، اقتصادی اور سیاسی شراکت داری کا متنازعہ عنصر بھی شامل ہے، کیونکہ مشرق وسطی پر ٹرمپ سے اختلاف کے باوجود روس اور چین کے بارے میں جوبائیڈن انتظامیہ ٹرمپ سے زیادہ سخت اور دشمن رویہ اختیار کر سکتی ہے، جس کے باعث اس امکان کو بھی ردنہیں کیا جاسکتا ہیکہ اسرائیل اور عرب اتحادیوں کی ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں اگر جو بائیڈن بھی اقتدار میں ہوتے ہیں تو تب بھی امریکہ اپنے عرب اور اسرائیلی اتحادیوں کی پشت پناہی کرسکتا ہے تاکہ ایران کو سمجھوتے کے اس مقام تک لایا جائے جہاں بائیڈن انتظامیہ اسے لانا چاہتی ہے، لیکن جنگ کا آغاز اور پشت بانی کرنے والا کوئی بھی ہو ایران اس جنگ میں تنہا نہیں ہو گا، کیونکہ روس اور چین اپنے اسٹریٹجک اتحادی ایران کی ہر طرح کی مدد اور پشت پناہی کریں گے جس سے یہ جنگ عالم گیر شکل بھی اختیار کرسکتی ہے، جس کے تباہ کن نقصانات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا، اسی لئے تمام تر کشیدگی کے باوجود ہر فرق براہ راست اور کھلی جنگ کی چنگاری بھڑ کانے کا آغاز کرنے سے ہچکچا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا ہیکہ کھلی جنگ سے بچنا ممکن ہوسکے گا، کیونکہ عالمی سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام کے بڑھتے ہوئے بے قابو شدید بحران نے عالمی وعلاقائی سامراجی طاقتوں کو ایسی گہری ضرب لگائی ہے کہ جس نے ان طاقتوں کے اوسان خطا کرتے ہوئے ان کے صبر، برداشت، دانائی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلی ہیں، لہذا ایسے پاگل پن میں کسی بھی وقت کچھ بھی برا ہو سکتا ہے۔
حریف طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اپنے اتحادیوں اور صف بندیوں میں وسعت لانے کی اس تگ ودوکامنظر صرف مغربی ایشیاء و شمالی افریقہ تک محدود نہیں رہ پارہا ہے بلکہ یہ عالمگیر شکل اختیار کررہا ہے، جس کا نتیجہ پرانے اتحادوں کی ٹوٹ پھوٹ اور پرانے حریفوں کانٹے دوستوں کے روپ میں سامنے آنے کی صورت میں برآمد ہورہا ہے، اس حوالے سے روس اور بھارت کے علاوہ پاکستان اور عرب اتحادیوں کے مابین بگڑتے ہوئے تعلقات خاص طور پر قابل ذکر ہیں، کیونکہ ان کے اثرات مغربی ایشیاء سے لے کر جنوبی مشرق اور وسطی ایشیاء تک یا پورے ایشیاء اور بحرالکاہل کے علاقوں کی سیاست ومعیشت پر مرتب ہو گے، اس ضمن میں روس اور بھارت کے تعلقات میں دراڑوں کی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ آنے والے دنوں میں روس اور انڈیا حلیف سے حریف میں بدل سکتے ہیں، اگرچہ یہ بگاڑ اس انتہائی سطح تک نہیں پہنچا ہیکہ جہاں ماضی کے دونوں گہرے اتحادی براہ راست باہم ٹکراؤ پراتر آئیں، مگر کچھ اشارے ایسے ضرور مل رہے ہیں کہ جن سے دونوں کے تعلقات کا مستقبل کسی حد تک دیکھا جا سکتا ہے، ان اشاروں میں روسی وزیر خارجہ سمیت مختلف روسی عہد یداران کے بعض بیانات کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی شامل ہیں جن کے مطابق 2000 ء میں انڈیا روس اسٹریٹجک پارٹنر شپ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے سربراہان حکومت کے مابین سالانہ دوطرفہ کانفرنس یا ملاقات ہونا طئے پائی تھی جس پر 2019 ء تک ایک پورے تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس بار صدر پیوٹن نے یہ سالانہ ملاقات منسوخ کردی ہے، حتی کہ کورونا کے باعث براہ راست یا بالمشافہ ملاقات کی بجائے روسی صدر کو ورچوئل یا ویڈ یو کانفرنس کی تجویز اور پیش کش بھی کی گئی مگر انہوں نے اسے بھی رد کر دیا ہے، روسی صدر کے اس اقدام کو بعض بھارتی ذرائع ابلاغ انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل چین مخالف چار فریقی سیکیورٹی اتحاد کواڈ کے قیام کیخلاف روسی ناراضگی سے جوڑکردیکھ رہے ہیں، اس سلسلے میں کہا جارہا ہیکہ چونکہ روس چین کا امریکہ کیخلاف اہم ترین اتحادی ہے اور دونوں ایشیاء ومحرالکاہل سمیت پوری دنیا میں امریکہ کا دفاعی، اقتصادی اور سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اور شراکت داری قائم کرچکے ہیں، لہذا جنوب مشرقی ایشیاء یا بحرالکاہل جیسے اہم ترین خطے میں بھارت کا امریکہ کی صف میں شامل ہوکر اسے مضبوط بنانے کا عمل روس کیلئے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے، جس کا اظہار روسی وزیر خارجہ کے اس بیان میں بھی نظر آتا ہے جس میں ان کا بھارت سے کہنا تھا کہ وہ چین کیخلاف امریکہ کے ہاتھوں میں نہ کھیلے، جبکہ پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھارتی اعتراضات کو بھی رد کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا گیا کہ روس کو پاکستان سے تعلقات استوار کرنے کیلئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، کچھ اسی قسم کی بیان بازی انڈیا میں تعنیات روسی سفیر کی جانب سے بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، اگرچہ روس کی طرف سے انڈیا کو یہ یقین دیانی بھی کرائی گئی ہیکہ اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات انڈیا کی قیمت پراستوار نہیں کئے جارہے ہیں لہذا بھارت کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن روس بھارت تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑیں محض پاکستان اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روسی تعلقات کا نتیجہ ہی نہیں ہیں بلکہ بعض تجزیہ کار اس بگاڑ میں فیصلہ کن عنصر بھارت کا کواڈ سمیت علاقائی وعالمی سطح پر روس کے سب سے بڑے دشمن امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہر قسم کی شراکت داری کو قرار دیتے ہیں، موجودہ حالات میں چونکہ امریکہ روس اور چین کو اپنا دشمن نمبر ون قرار دے چکا ہے، اور اس کی تمام تر دفاعی، اقتصادی اور سیاسی حکمت عملی روس اور چین کو کمزور بنانے اور انہیں امریکی مفادات کے راستے سے ہٹانے پراستوار ہے، جس کیلئے کواڈنامی چارفریقی سیکیورٹی اتحاد کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جو امریکہ کی بحر ہند سمیت بحرالکاہل جیسے دنیا کے سب سے بڑے اور اہم ترین خطے میں پوزیشن اور اثر رسوخ کو مزید مضبوط اور وسیع بنائے گا، جس سے خطے میں روس کے مفادات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، لہذا اس عمل میں انڈیا کی شراکت داری امریکہ کو مضبوط اور روس کو کمزور بنانے کا باعث بنے گی جسے روس برداشت نہیں کرسکتا ہے، اسی عدم برداشت کا اظہار انڈیا کے بارے میں روس کے موجود ہ رویے میں ہورہا ہے، لیکن روس کی تمام تر مخالفت کے باوجود بھارت کیلئے بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی تناظر میں امریکہ کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا عنقریب ممکن نظر نہیں آتا، جس کے باعث یہ کہا جا سکتا ہیکہ روس اور بھارت کے تعلقات میں آنے والی دراڑیں مزید وسعت اور گہر ائی اختیار کرسکتی ہیں، جس کا نتیجہ روس کی طرف سے نہ صرف چین بلکہ پاکستان کی پہلے سے زیادہ پشت پناہی اور مزید قربتوں کی صورت میں نکل سکتا ہے، جس کے آثار ان میڈیا رپورٹس سے بھی ظاہر ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کے مطابق چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کے بعد اب روس پاکستان اکنامک کوریڈور یا RPEC کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے، جبکہ روس پاکستان میں ایک بڑی گیس پائپ لائن کے منصوبے کا ٹھیکہ بھی حاصل کر چکا ہے، اور اس کے علاوہ روس اور پاکستان کے مابین دفاعی تعلقات وجدید عسکری سازو سامان کی خرید وفروخت میں بھی تیزی اور وسعت دیکھی جارہی ہے، لہذا ایسی کیفیت میں روس اور بھارت کے تعلقات بہتر ہونے کی بجائے بداعتماد یوں وتلخیوں کو بڑھائیں گے، جس سے پورا خطہ مزید عدم استحکام اور تناؤ کا شکار ہوگا۔
اس تمام علاقائی وعالمی ٹکراؤ سے بھرپور سیاسی ومعاشی تناظر کو مزید تناؤ کا شکار بنانے میں پاکستان اور عرب اتحادیوں کے مابین بڑھتی ہوئی تلخیاں بھی ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، کہا جارہا ہیکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے پاکستان کے 70 سالہ قدیم انتہائی قریبی اتحادی اب باقاعدہ ایک حریف کا روپ دھارچکے ہیں، اور اس کے برعکس بھارت ان اتحادیوں کا اب انتہائی قریبی اقتصادی، سیاسی اور دفاعی پارٹنر بن چکا ہے، جو پاکستان کیلئے کسی طرح بھی سود مند نہیں ہے، تعلقات میں شدید بگاڑ کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہیکہ پاکستان کی موجودہ عمران حکومت کو دونوں عرب اتحادیوں نے جو قرضہ دیا تھا سے معیادپوری ہونے سے پہلے ہی واپس مانگ لیا گیا ہے، اور پاکستانی حکومت اس قرض کا ایک بڑا حصہ واپس بھی کرچکی ہے اور باقی ماندہ اگلے کچھ عرصے میں واپس کر دیا جائیگا، اس کے علاوہ یواے ای پاکستانیوں کیلئے ویزے پرپابندی بھی عائد کرچکا ہے، جسے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے گذشتہ ماہ کئے جانے والے متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پرختم کرانے میں ناکام رہے، قریشی کے اس دورے کو ناکام قرار دیا جارہا ہے، جس کا مظاہرہ دونوں اطراف کے ہم منصبوں کی مشترکہ کانفرنس کی بجائے پاکستانی وزیر خارجہ کا تنہا پریس کانفرنس سے خطاب کرنے میں بھی واضح طور پر دیکھا گیا، دوسری طرف اس کے برعکس جب بھارتی آرمی چیف یواے ای پہنچے تو اس کا بھرپور استقبال اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے والے اہم امور کو طئے کیا گیا، ان دونوں دور وں کے سامنے آنے والے نتائج اس امرپر تصدیق کی مہر لگارہے ہیں کہ پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان باہم گہرے خوشگوار تعلقات قصہ پارینہ بن چکے ہیں، اور آج کی حقیقت یہ ہیکہ اب یہ ماضی کے شاندار اتحادی آنے والے دنوں میں ایک دوسرے کا سامنا ایک حریف کے طور پر کریں گے، جس کا آغاز ہو چکا ہے، جو ترکی اور ایران جیسے عرب اتحادیوں کے سب سے بڑے دشمنوں کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے ہر قسم کے تعلقات کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے، پاکستانی حکومت ایران اور ترکی کے ساتھ علاقائی وعالمی اہمیت کے حامل اقتصادی، سیاسی ودفاعی منصوبوں اور معاہدوں کو عمل میں لارہی ہے، جن میں چین بھی شامل ہے، اور روس بھی اس نئی صف بندی میں شراکت داری کی طرف مائل ہے، اس سلسلے میں اسلام آباد، تہران استنبول ٹرین سروس کا حالیہ سہ فریقی معاہدہ اس نئے اتحاد کو مزید باہم مربوط کرنے کیلئے عمل میں لایا جارہا ہے، سی پیک کی طرح یہ آئی ٹی آئی ریل منصوبہ بھی بلوچستان کے دونوں مشرقی ومغربی علاقوں سے ہوکرگزرے گا، اور یوں سی پیک کے بعد بلوچستان کا خطہ ترکی ایران اور پاکستان کے مابین تشکیل پانے والے اقتصادی وتجارتی منصوبوں کا بھی ایک اہم مرکز ہوگا، اگرچہ تینوں ممالک کے درمیان کارگو ٹرین سروس کا یہ منصوبہ کوئی نیا نہیں ہے اور ماسوائے رواں برس کے یہ ٹرین سروس چلتی رہی ہے لیکن علاقائی وعالمی سطح پر آنے والے ایک بڑے تغیر وتبدل اور پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ پیدا ہونے والے تناؤ کی فضامیں اس منصوبے کی بحالی پاکستان کے عرب حریفوں کیلئے ایک واضح پیغام اور خطے کی سیاست ومعیشت پر گہرے اثرات کی حامل قرار دی جارہی ہے، لہذا اس پر تضاد فضا میں یہ ممکن نہیں ہیکہ پاکستان، ایران ترکی کی عرب اتحادیوں سمیت حریف طاقتیں خاموش رہیں، ایسی کیفیت میں تجزیہ کاروں کا خیال ہیکہ حریف عرب ممالک پاکستان پردباؤ بڑھانے کیلئے نہ صرف خارجی ذرائع بروئے کا لائیں گے بلکہ داخلی سیاسی تنازعات ومعاملات میں بھی مداخلت بڑھا سکتے ہیں جیسا کہ وہ شام ویمن سمیت مختلف حریف اسلامی ممالک میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئے ہیں، جس کے باعث یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہیکہ بلوچستان کے پاکستانی وایرانی کنٹرول والے علاقے چونکہ اقتصادی واسٹریٹجک منصوبوں کا سب سے بڑا مرکز بن رہے ہیں لہذا یہاں جاری سیاسی وسماجی بے چینی، مسلح مزاحمت اور عدم استحکام کی کیفیت پر مختلف ذرائع سے اثرانداز ہوتے ہوئے پاکستان پردباؤ بڑھایا جاسکتا ہے، ایسا ہونے کی صورت میں بلوچستان کا تنازعہ ایک نئی شکل اختیار کرسکتا ہے۔