جنگ بطور سائنس، نوآبادیاتی بیانیہ اور مزاحمتی شعور: مقبوضہ اقوام اور طلبہ تحریکوں کا کردار

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

تحریر : گُل شیر منیر

یہ تحقیقی مقالہ جنگ کے نظریاتی، سائنسی اور عمرانی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ جنگ محض دو فوجوں کی گولہ باری کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک کثیر المہتی سائنس ہے جس میں نفسیاتی، ثقافتی، تعلیمی اور جغرافیائی سیاسی حربے شامل ہوتے ہیں۔ مقالہ اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ کس طرح قابض اور نوآبادیاتی طاقتیں محکوم اقوام کو "غیر تہذیب یافتہ” کا لقب دے کر اور "ہمدردانہ ناصح” کا روپ دھار کر ان کی زمین، زبان اور وسائل پر قابض ہوتی ہیں۔ نیز، مقالے میں اس امر کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ایک قوم کے تمام طبقات (مرد، خواتین، اور بالخصوص نوجوان) کو جنگ و مزاحمت کے لیے کس طرح تیار ہونا چاہیے اور قابض کے بچھائے گئے ناقص تعلیمی نظام اور ذہنی الجھنوں کا مقابلہ کرنے میں طلبہ تنظیموں اور طلبہ کونسلز کا کیا تاریخی کردار ہے۔

جنگ انسان اور ریاست کی تاریخ کا ایک بنیادی فکری و عملی حصہ رہی ہے۔ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم سائنس بن چکی ہے۔ جب تک کسی قوم کو یہ ادراک نہ ہو کہ جنگ کن قواعد، قوانین اور فکری اصولوں کے تحت لڑی جاتی ہے وہ اپنے وجود کا دفاع نہیں کر سکتی۔

اگر جنگ ایک بدامنی ہے تو امن اس کا گہوارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امن کا دورانیہ دراصل تن آسانی کا نام نہیں بلکہ آئندہ کے ممکنہ خطرات دفاعی صلاحیتوں اور فکری و جسمانی تیاری کا دور ہوتا ہے۔ مقبوضہ اور محکوم اقوام کے لیے جنگ کا مطالعہ اور اس کا فکری سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ قابض کے سیاسی و ثقافتی ہتھکنڈوں کا نپٹارا کر سکیں۔

جنگ بطور سائنس اور لٹریچر کا مطالعہ (War as a Science and Literature of Subjugated Nations)

جنگ کے سائنسی اصولوں کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی نظریات کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے:

کال وان کلاؤزوٹز (Carl von Clausewitz) – آن وار (On War): کلاؤزوٹز کا مشہور قول ہے کہ "جنگ سیاست کا ہی تسلسل ہے جسے دوسرے ذرائع سے آگے بڑھایا جاتا ہے”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کا حتمی مقصد سیاسی ہوتا ہے، عسکری تحرک صرف ایک ذریعہ ہے۔

سن زو (Sun Tzu) – دی آرٹ آف وار (The Art of War): سن زو کے مطابق "بغیر لڑے دشمن کو زیر کرنا ہی فنِ حرب کی معراج ہے”۔

قابض طاقتیں اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے عسکری چڑھائی سے قبل یا اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور ثقافتی جنگ لڑتی ہیں۔ لہٰذا مقبوضہ اقوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام اقوام کی تاریخ اور لٹریچر کا مطالعہ کریں جو ماضی میں یا حال میں قابضین کے زیرِ اثر زندگی گزار چکی ہیں (مثلاً الجزائر، ویتنام، آئرلینڈ، اور فلسطین)۔

غلام قوموں کے لٹریچر کا مطالعہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ:

(1) قابض کس طرح مقامی ساخت کو توڑتا ہے۔

(2) مقامی آبادی کے اندر کس طرح خوف اور احساسِ کمتری کو جنم دیا جاتا ہے۔

(3) قومیں کس طرح طویل جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق بحال کرتی ہیں۔

قابض کا "تہذیبی بیانیہ” اور ثقافتی تسلط
(Colonial Discourse and cultural Imperialism)

قابض ریاست کا سب سے بڑا حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ محکوم قوم کی شناخت، تاریخ اور ثقافت پر حملہ کرتی ہے۔ قابض کے بیانیے کی ساخت درج ذیل مراحل پر محیط ہوتی ہے:

"غیر تہذیب یافتہ” کا لقب: محکوم قوم کی تاریخ، روایات اور علم کو جاہلانہ اور پسماندہ قرار دینا۔

"ہمدردانہ اصلاح” کا فریب: خود کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا جو مقامی آبادی کو "تہذیب یافتہ” بنانے آیا ہے۔

حتمی مقصد: اس ہمدردانہ پردے کے پیچھے اصل مقصد محکوم قوم کی زمین، قدرتی وسائل اور زبان پر مکمل تسلط حاصل کرنا ہوتا ہے۔

فکری مراجع اور تجزیہ

فرانز فینن (Frantz Fanon) – افتادگانِ خاک (The Wretched of the Earth): فینن لکھتے ہیں کہ نوآبادیاتی نظام صرف انسانوں کی جسمانی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ ان کی روح اور ماضی کی تحریف کرتا ہے۔ قابض کا دعویٰ ہوتا ہے کہ اس کی آمد سے قبل مقامی لوگ "تہذیب” سے ناآشنا تھے۔

ایڈورڈ سعید (Edward Said) – اورینٹلزم (Orientalism): ایڈورڈ سعید کے مطابق مغرب اور قابض طاقتوں نے ایک ایسا فکری ڈھانچہ (Discourse) تیار کیا جس میں مشرق اور محکوموں کو سست، جذباتی اور غیر معقول دکھایا گیا، جبکہ قابض کو معقول، عقل مند اور تہذیب یافتہ اس بیانیے کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ محکوم پر حکومت کرنا قابض کا "اخلاقی فرض” (White Man’s Burden) ہے۔

نگوگی وا تھیونگو (Ngũgĩ wa Thiong’o) – ذہنی استعماریت کا خاتمہ (Decolonising the Mind): نگوگی کے مطابق قابض طاقتیں سب سے پہلے زبان پر حملہ کرتی ہیں۔ جب کسی قوم کی زبان چھین لی جاتی ہے تو اس کا اپنے لٹریچر اور تاریخ سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، جس کے بعد وہ اپنے ہی وسائل پر قابض کی ملکیت کو تسلیم کرنے لگتی ہے۔

قوم کے تمام طبقات کی تیاری اور ناقص تعلیمی نظام کا مقابلہ

جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہوتی ہے۔ ایک مقبوضہ یا خطرے میں گھری قوم کو اپنے تمام طبقات کو یوں تیار کرنا ہوتا ہے:

(1) مرد و خواتین: فکری و روایتی تقسیم سے بالاتر ہو کر سیاسی شعور، دفاعی تربیت، معاشی خود کفالت اور رسد (Logistics) کے نظام کو سنبھالنا۔

(2) نوجوان نسل: تنقیدی تفکیر (Critical Thinking)، تاریخ کے صحیح مطالعے اور قابض کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔

(3) تعلیمی میدان: استعماری تعلیمی نصاب کی جگہ مزاحمتی اور حقیقی تاریخی تعلیمی فریم ورک اپنانا۔

تعلیمی نظام میں بگاڑ اور اس کا اثر

قابض ریاست کا بنایا ہوا تعلیمی نظام ایسا ہوتا ہے جو نوجوانوں کو تنقیدی شعور دینے کے بجائے ذہنی الجھن (Mental Confusion) اور اطاعت شعاری سکھاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایسے افراد پیدا کرنا ہوتا ہے جو جسمانی طور پر مقامی ہوں لیکن فکری طور پر قابض کے مفادات کے محافظ ہوں۔

پاؤلو فریرے (Paulo Freire) اپنی کتاب "تعلیم اور مظلوم عوام” (Pedagogy of the Oppressed) میں اس کو "بینکاری تعلیمی نظام” (Banking Concept of Education) کہتے ہیں جہاں علم صرف نچلے طبقے کے ذہنوں میں ٹھونسا جاتا ہے تاکہ وہ سوال نہ اٹھا سکیں۔ فریرے کے مطابق آزاد تعلیمی نظام وہ ہے جو ناقدانہ شعور (Conscientization) بیدار کرے۔

طلبہ تنظیموں اور طلبہ کونسلز کا مرکزی کردار (Role of Student Organizations)

نوجوان بالخصوص طلبہ کسی بھی قوم کا سب سے متحرک اور حساس حصہ ہوتے ہیں۔ جب تعلیمی ادارے قابض کے بگاڑ کا شکار ہوں تو یہاں طلبہ تنظیموں اور طلبہ کونسلز پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

طلبہ تنظیموں کے بنیادی زمہ داری:

(1) غلامی کے احساس کی بیداری: طلبہ کو یہ باور کرانا کہ موجودہ سہولیات اور نظامِ تعلیم دراصل غلامی کا ایک خوبصورت فریب ہیں۔

(2) متبادل لٹریچر کی فراہمی: تعلیمی نصاب سے ہٹ کر دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں اور مقبوضہ اقوام کے لٹریچر اور تاریخ سے طلبہ کو روشناس کرانا۔

(3) ثقافتی و لسانی تحفظ: اپنی مادری زبان، تاریخ اور قومی شناخت کے دفاع کے لیے اسٹڈی سرکل (Study Circles) اور سیمینارز منعقد کرنا۔

(4) فکری قیادت کی تیاری: طلبہ کونسلز کا کام صرف تعلیمی مسائل حل کرنا نہیں بلکہ قوم کے لیے مستقبل کے ایسے سیاسی و فکری قائدین تیار کرنا ہے جو سائنسِ حرب اور سیاسی حکمت عملی سے واقف ہوں۔

نتیجہ (Conclusion)

جنگ کو ایک سائنس کے طور پر سمجھنا مقبوضہ اقوام کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ قابض کا مقصد صرف سرزمین پر قبضہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ "تہذیب و تعلیم” کا جھوٹا نقاب پہن کر قوم کی زبان، ثقافت اور معاشی وسائل پر مسلط ہونا چاہتا ہے۔ اس نوآبادیاتی جال کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ:

قوم کے تمام طبقات (مرد، خواتین، اور نوجوان) فکری اور دفاعی اعتبار سے منظم ہوں۔

استعماری اور ناقص تعلیمی نظام کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے متبادل معلوماتی و تاریخی لٹریچر عام کیا جائے۔

طلبہ تنظیمیں اور کونسلز اپنے روایتی کردار سے آگے بڑھ کر فکری بیداری، تاریخ شناسی اور مزاحمتی شعور کی آبیاری میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

جب تک کوئی قوم جنگ کی سائنسی حقیقتوں اور قابضین کے نفسیاتی و ثقافتی حربوں کو نہیں سمجھتی، وہ حقیقی آزادی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔

حوالہ جات (References)

  1. Fanon, Frantz. (1961). The Wretched of the Earth.
    (اردو ترجمہ: افتادگانِ خاک)
  2. Said, Edward W. (1978). Orientalism. Publisher: Penguin Books, London.
  3. Sun Tzu. The Art of War.
    (اردو ترجمہ: دی آرٹ آف وار)
  4. von Clausewitz, Carl. (1832). On War. Imperial Publishing.
  5. Freire, Paulo. (1968). Pedagogy of the Oppressed. Herder and Herder.
    (اردو ترجمہ: تعلیم اور مظلوم عوام)
  6. Ngũgĩ wa Thiong’o. (1986). Decolonising the Mind
    (اردو ترجمہ: ذہنی استعماریت کا خاتمہ)
  7. Gramsci, Antonio. (1971). Selections from the Prison Notebooks. International Publishers.

٭٭٭

Share This Article