آپریشن الماس: بی ایل ایف کے فدائی کمانڈر خالد عرف زامُر کا آخری ویڈیو پیغام جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کی آزادی کے لیے برسرِ پیکار مسلح تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے ‘آپریشن الماس’ کے آپریشنل کمانڈر اور تنظیم کی ایلیٹ فدائی یونٹ ‘سدو آپریشنل بٹالین’ (SOB) کے کمانڈر فدائی خالد عرف زمُر بلوچ کا قوم کے نام آخری ویڈیو پیغام جاری کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ بی ایل ایف کے خصوصی عسکری یونٹس نے گذشتہ دنوں گوادر شہر میں قائم پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر ایک ہماہنگ اور مربوط فدائی حملہ کیا تھا۔ 20 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے اس طویل آپریشن میں 80 سے زائد عسکری و انٹیلی جنس اہلکار ہلاک، متعدد بکتر بند گاڑیاں، مرکزی بیرکس اور جاسوسی دفاتر تباہ کر دیے گئے، جبکہ فضائی دفاع میں 4 کواڈ کاپٹر اور 2 سرویلنس ڈرون بھی مار گرائے گئے۔ بی ایل ایف نے اس عظیم الشان آپریشن کو تنظیم کی دیرینہ اور نظریاتی گوریلا کمانڈر ‘الماس بلوچ’ کے نام سے منسوب کیا تھا۔

سامنے آنے والی ویڈیو کے آغاز میں شہید خالد بلوچ کو بلوچستان کے پہاڑوں میں بی ایل ایف کے کیمپ میں آفیشل عسکری یونیفارم میں ملبوس، جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے ایک حصے میں وہ ایس او بی (SOB) یونٹ کے یونیفارم میں اپنا آخری تاریخی پیغام ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

اپنے پیغام میں وہ بلوچ شہداء کو سرخ کو سلام پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہی شہداء نے بلوچ اور بلوچستان کے لیے اپنی قیمتی جانیں قربان کیں، اور ان تمام ساتھیوں کو خراجِ تحسین جو بلوچستان کے پہاڑوں میں دشمن سے لڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے دشمن سے بلوچستان کی سرزمین اور ساحل کو آزاد کرانے اور قومی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے ایس او بی یونٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علم کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے؛ ہر بلوچ کو عملی طور پر اس جدوجہد میں حصہ لینا چاہیے تاکہ آنے والے کل میں ایک آزاد بلوچستان میں جیا جا سکے۔

اپنے پیغام میں وہ بلوچ قوم سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ آزاد بلوچستان ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ قابض قوت خوشی سے ہماری سرزمین خالی نہیں کرے گی، اس کے لیے ہمیں قربانیاں دینی ہوں گی۔

آخری پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان بلوچستان میں کیا کر رہا ہے،ہماری خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹنا، انہیں مارنا اور لاپتہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

اپنے پیغام میں وہ بلوچ قوم کو مخاطب کرتے ہیں کہ وہ قومی فریضہ سمجھتے ہوئے بلوچ جدوجہد میں شامل ہوں، کیونکہ آزادی آسانی سے نہیں ملتی۔ جس طرح پانی کے بغیر درخت پروان نہیں چڑھ سکتا، اسی طرح ہماری دھرتی کو آزادی کے لیے خون کی ضرورت ہے۔

ویڈیو کے اختتام پر فدائی شہید خالد زامر اور ان کے 6 دیگر ساتھیوں (بشمول فدائی جنگجو الماس بلوچ) کو گوادر کیمپ کے اندر دشمن کے خلاف برسرِ پیکار دکھایا گیا ہے۔

20 گھنٹے کی آپریشن کے دوران گولیاں ختم ہونے کے بعدفدائیوں نے دشمن کی گولی کا نشانہ بننے کے بجائے ‘آخری گولی کے فلسفے’ پر عمل کرتے ہوئے خود اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کیمپ کے اندر موجود تمام پاکستانی فوجی ہلاک ہو چکے تھے۔ فدائیوں کی جانب سے 20 گھنٹے تک کیمپ پر قبضہ اور مسلسل لڑائی کے باوجود فورسز کا کوئی بھی تازہ دم دستہ کیمپ کے اندر داخل ہونے کی جرات نہیں کر سکا اور وہ سڑک کے دوسری جانب سے محض فائرنگ تک محدود رہے، جو دشمن کی بزدلی کا واضح ثبوت ہے۔

Share This Article