بلوچستان کی ابتر صورتِ حال پر سپریم کورٹ کے جج اور گورنر کا شدید تشویش کا اظہار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں سیکورٹی کی ابتر صورتِ حال، حکومتی رٹ کے مکمل خاتمے اور آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیموں کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کے درمیان، سیاسی و عدالتی شخصیات کی جانب سے بلوچستان کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک طرف جہاں سول انتظامیہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور فورسز پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں، وہیں اعلیٰ حکام بلوچستان کی بجاے وفاقی فیصلہ سازی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال انتہائی خراب ہے۔

انہوں نے کہا کہ "آج بحیثیت گورنر میں کئی باتیں کھلم کھلا نہیں کر سکتا، جب اس عہدے پر نہیں ہوں گا تو کھل کر تبصرہ کروں گا۔”

بلوچستان میں متوقع گورنر راج کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں اور اس معاملے کے تمام اختیارات اسلام آباد میں بیٹھنے والے صاحبِ اختیار لوگوں کے پاس ہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے بلوچستان بار کونسل کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتِ حال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "بلوچستان کے موجودہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آج ہمیں اپنے ہی وطن کوئٹہ جاتے ہوئے احتیاط کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، جبکہ ایک وقت تھا کہ ہم بغیر کسی محافظ کے کہیں بھی چلے جاتے تھے۔”

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان اس نہج تک کیسے پہنچا، اور زور دیا کہ امن کی بحالی کے لیے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر وجوہات پر غور کرنا ہوگا، کیونکہ امن کے بغیر کاروبار اور عدالتیں کچھ بھی نہیں چل سکتے۔ انہوں نے سانحہ سول اسپتال کے دردناک واقعے کا بھی ذکر کیا۔

ذرائع اور زمینی حقائق کے مطابق بلوچستان میں اس وقت سرکاری مشینری اور فورسز کا کنٹرول ختم ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

بلوچ آزادی پسند گاہے بگاہے مین شاہراہوں اور قومی شاہراہوں کو اپنے کنٹرول میں لے کر گھنٹوں ناکہ بندی اور تلاشی کا عمل جاری رکھتے ہیں، جبکہ سیکورٹی فورسز ان علاقوں کے قریب آنے سے بھی گریزاں ہیں۔

آزادی پسند گوریلے اب دور دراز علاقوں کے علاوہ شہری مراکز کا رخ کر کے عام عوام کے ساتھ آزادانہ طور پر گھل مل رہے ہیں۔

آئے روز سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اغوا ہورہے ہیں جس کے باعث سرکاری افسران کو دفاتر اور رہائش گاہوں سے باہر نکلنے پر شدید پابندیاں درپیش ہیں۔

پاکستانی فورسز کو بلوچستان بھر میں روزانہ کی بنیاد پر شدید حملوں اور جانی نقصان کا سامنا ہے۔

بلوچستان کی یہ ابتر صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں ریاستی ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور سیاسی و فوجی پالیسیاں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔

Share This Article