یہ میری بھی جنم بھومی ہے(آپریشن الماس کا ایک انمول کردار ’’شہید حمید اللہ بڑیچ‘‘)

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

تحریر: بہاول بلوچ

یوگن ہاربر ماس کے نزدیک ’’وطن سے وفاداری کی بنیاد صرف مشترکہ نسل، زبان، مذہب یا ثقافت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

ایک خطۂ زمین جہاں بھاری اکثریت کسی ایک قوم کی ہو اور وہاں چند دیگر اقوام بھی رہائش پذیر ہوں۔ ایسے خطوں میں عمومی طور پر یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثریتی گروہ، جو صدیوں تک حکمرانی بھی کرتا رہا ہے، اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس خطے کی حفاظت کرے۔

یہ دراصل تحریک کی ابتدائی صورت ہوتی ہے، جس میں کثیر آبادی رکھنے والا گروہ مزاحمت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔لیکن جیسے جیسے تحریک پروان چڑھتی ہے، ویسے ویسے دیگر لسانی اور ثقافتی گروہ بھی، جو صدیوں یا ہزاروں سال سے وہاں آباد ہیں، وطن پر مر مٹنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

بلوچستان کی مزاحمتی تاریخ میں ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں رہنے والے اقلیتی گروہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔مثلاً برطانوی دور میں خان مہراب کے ساتھ قلات کی ہندو برادری کا دھرتی کے لیے لہو بہانا، یا پھر ستر کی دہائی کی تحریک میں دلیپ کا کردار۔

بہرحال، حالیہ تحریک میں ہمیں ان اقوام کی اخلاقی حمایت تو حاصل رہی، لیکن عملی طور پر ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں انہوں نے مزاحمت کے میدان میں بھی قدم رکھا ہو۔

البتہ حالیہ حالیہ دنوں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے گوادر میں کیے گئے مربوط اور منظم حملے کی رپورٹ اور شہید ہونے والے ساتھیوں کی تصاویر جب نظر سے گزریں تو یہ دیکھ کر حیرت نہیں بلکہ انتہائی خوشی ہوئی کہ اب بلوچستان میں آباد پشتون قبائل کے نوجوان بھی اپنے وطن کی آزادی کی تحریک میں حصہ لے رہے ہیں۔

میں بات کر رہا ہوں، جند ندر (فدائی) حمیداللہ عرف بادل کی۔یہ نوجوان کوئٹہ کے علاقے بڑیچ ٹاؤن کا رہائشی تھا۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو نصیری بلوچستان( برٹش دور کی تقسیم سے قبل کی بلوچستان) میں دو ایسے قبائل ہیں جو ہزاروں سال سے یہاں آباد چلے آ رہے ہیں؛ ایک کاسی اور دوسرا بڑیچ۔جبکہ سولہویں صدی میں سبی اور برطانوی دور میں بعض دیگر غیر بلوچ قبائل بلوچستان آ کر آباد ہوئے۔

البتہ کاسی اور بڑیچ بلوچستان کے قدیم قبائل میں شمار ہوتے ہیں۔ نصیری بلوچستان میں کاسیوں کی آبادی کوئٹہ تک محدود ہے، جبکہ بڑیچ کوئٹہ کے علاوہ چاغی اور نوشکی میں بھی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

حمید اللہ بڑیچ کا جدوجہد کا حصہ بننا اور پھر ایک ایسی تاریخ رقم کرنا، جس کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے، خطے میں بسنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ یہ ہماری بھی جنم بھومی ہے۔ اور جس مٹی سے ہمارا خمیر اٹھا ہے، اس کی آبیاری، آزادی اور اس میں بسنے والوں کی خوشحالی کے لیے ہماری بھی اتنی ہی ذمہ داری بنتی ہے جتنی یہاں کی کثیر آبادی رکھنے والے بلوچوں کی ہے۔

یہی نظریہِ وطن دوستی ہے۔ جب وطن سے عشق کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے تو پھر وطن واسیوں کو روکنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ چاہے ظلم و جبر کتنی زوروں پر کیوں نہ ہو، چاہے دشمن عددی اور عسکری برتری میں کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ دشمن کی یہ طاقت پھر جذبۂ وطن دوستی سے لیس مزاحمت کاروں کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔

حمید اللہ بادل اس کی واضح مثال ہے۔ جنہوں نے نہ صرف پہاڑی محاذ پر جنگ لڑی بلکہ ۲۰۲۴ میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کچھ عرصے تک شہری گوریلا جنگ بھی لڑی۔

تنظیم کے مطابق، بعد ازاں ۲۰۲۵ میں انہوں نے سدو بٹالین میں بحیثیت فدائی اپنی خدمات پیش کیں۔

’’جندندر بننا‘‘ یہ یقیناً وطن سے محبت کی انتہا ہوتی ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔

گوادر کا یہ معرکہ، جو دشمن کی شہہ رگ کاٹنے کے مترادف تھا، اس میں حمید اللہ بادل کا کردار انتہائی اہم رہا۔ جس کا اظہار ان کی تنظیم کے ترجمان نے ان الفاظ میں کیا کہ ’’گوادر میں سر انجام پانے والے تاریخ ساز آپریشن الماس کے دوران شہید حمید اللہ عرفِ بادل نے جس پامردی، شجاعت اور جند ندر جذبے کے ساتھ اپنے عسکری فرائض سر انجام دیے، وہ مستقبل کی جنگوں میں ہمارے سرمچاروں کے لیے رہنما اصول ہوں گے۔‘‘

حمید اللہ بادل کا اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد میں کردار اب تاریخ کا ایک ایسا باب بن چکا ہے، جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ اور یہ تاریخی کردار فقط اس لیے ممکن ہوا کہ حمید اللہ کو ادراک اور احساس تھا کہ میری جنم بھومی ہی میرا وطن ہے اور میرے وطن سے میری محبت کوئی نہیں چھین سکتا۔

اپنے وطن سے محبت کا یہ تقاضا تھا کہ اس کے لیے آخری دم تک لڑا جائے، اورشہید حمید اللہ بادل نے ایسا کر دکھایا۔

مجھے یقین ہے کہ وطن کے اس شہزادے کے لہو سے ہر طرف کونپلیں پھوٹیں گی، جن کی خوشبو چاروں سمت بکھر جائے گی۔ اور حمید جیسے ہزاروں وطن دوست، جذبۂ حب الوطنی سے سرشار ہو کر، وطن کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں گے۔

شہید حمید اللہ بادل نے یہ ثابت کر دیا کہ وطن سے وفاداری کی بنیاد صرف مشترکہ نسل، زبان، مذہب یا ثقافت نہیں ہوتی، بلکہ اس خاک پر خود کو قربان کرنے کے لیے یہی احساس کافی ہے کہ یہ میری جنم بھومی ہے۔

٭٭٭

Share This Article