بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق (سی ای ایس سی آر) میں پاکستان کے دوسرے دورانیہ جاتی جائزے کے موقع پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب کمیٹی اراکین کی توجہ دلائی۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی پاکستان کو بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر جواب دہ ٹھہرائے۔ انھوں نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور نگرانی کے لیے ایک خصوصی طریقۂ کار قائم کرے، اور بلوچ قوم کو ایک باضابطہ پلیٹ فارم فراہم کرے جہاں ان کی آواز براہِ راست سنی جا سکے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کمیٹی کے اراکین مائیکل ونڈفور اور جولیٹا روسی سے ملاقات کی۔ انھوں نے ان کی توجہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزا اور بلوچ عوام کو بنیادی معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے محروم رکھنے کی جانب مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کو بلوچ قوم پر پاکستان کے منظم جبر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہزاروں بلوچ خاندان اس اذیت سے گزر چکے ہیں اور اس کے تباہ کن اثرات براہِ راست متاثرین تک محدود نہیں رہتے۔ خاندان اپنے کفیلوں سے محروم ہو جاتے ہیں، بچے تعلیم کے مواقع کھو دیتے ہیں اور پورے کے پورے گھرانے غربت کی دلدل میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے دیگر رہنماؤں سمیت بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں کی قید پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچ حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے پرامن لوگوں کو کس طرح کڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔
معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے ( آئی سی ای ایس سی آر ) کے آرٹیکل 1 کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کمیٹی کو یاد دلایا کہ تمام اقوام کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے، جس میں اپنی قدرتی دولت اور وسائل کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا حق بھی شامل ہے۔ انھوں نے آرٹیکل 11، 12 اور 13 کا بھی ذکر کیا جو مناسب معیارِ زندگی، صحت اور تعلیم کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ان ذمہ داریوں کی پاسداری کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا: ”جب بلوچستان میں یہ حقوق سلب کیے جا رہے ہیں تو پاکستان ان کی پاسداری کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟“
کمیٹی اراکین سے گفتگو میں انھوں نے واضح کیا: ”ہم ہمدردی کی بھیک نہیں مانگ رہے۔ ہم انصاف، احتساب اور اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔“
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کمیٹی کے باضابطہ جائزہ اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں تقریباً 12 نمائندوں پر مشتمل پاکستانی وفد معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ اجلاس کے دوران جولیٹا روسی نے بارہا بلوچستان کی صورتحال پر سوالات اٹھائے، جبکہ مائیکل ونڈفور نے بھی خطے سے متعلق مسائل اٹھائے۔ ان سوالات کے نتیجے میں بلوچستان کا معاملہ پاکستان کے باضابطہ جائزے کا حصہ بن گیا۔
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کمیٹی کے چیئر اور اراکین ایل۔ ای۔ پیریز اور فیوریو ویسکن کو اضافی دستاویزات پیش کیں، جن میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معاہدے کے تحت ان کے مضمرات کی تفصیلات شامل تھیں۔
فیوریو ویسکن نے ان دستاویزات میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔ انھوں نے ذاتی طور پر ان کا جائزہ لیا، کمیٹی کے دائرۂ اختیار سے متعلق کئی نکات کی نشاندہی کی اور ڈاکٹر نسیم بلوچ کو یقین دلایا کہ وہ اگلے روز یہ معاملات کمیٹی کے سامنے اٹھائیں گے۔