بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی طرف سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جہاں حال ہی میں فورسز کے ہاتھوں کوئٹہ اور پنجگور سے 2 مزید بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب کیچ کے مختلف علاقوں سے ماضی میں جبری لاپتہ کیے گئے 4 افراد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں۔
تاہم جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والوں میں کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی (قمبرانی روڈ) کے رہائشی 15 سالہ طالب علم یحییٰ بلوچ ولد پیر محمد شامل ہیں، جنہیں 27 اکتوبر 2026 کو رات 3:00 بجے پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں (IS/MI/CTD) نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
اسی طرح دوسرا واقعہ پنجگور میں پیش آیا جہاں کلیری پروم کے رہائشی 18 سالہ ڈرائیور زبیر بلوچ ولد صیاد بلوچ کو 5 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12:00 بجے زیرک بارڈر پروم کے مقام سے فرنٹیئر کور (FC) نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
دوسری جانب، ضلع کیچ میں 4 جبری لاپتہ افراد کی باقاعدہ بازیابی کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان میں عومری کہن (کیچ) کے رہائشی غلام جان بلوچ ولد صالح محمد شامل ہیں، جنہیں 27 مئی 2025 کو اٹھایا گیا تھا اور وہ 27 اکتوبر 2026 کو تربت کے مقام سے بازیاب ہوئے۔ جبکہ گوبرد مند (کیچ) کے رہائشی اکرام بلوچ ولد اسماعیل بلوچ، جو 26 اکتوبر 2026 کو جبری لاپتہ ہوئے تھے، 28 اکتوبر کو تربت ہی سے بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں۔
مزید برآں، آپسر تربت (کیچ) کے رہائشی دو سگے بھائیوں طیب ناصر اور پذیر ناصر پسران حاجی ناصر کی بھی بازیابی عمل میں آئی ہے۔ دونوں بھائیوں کو 17 اکتوبر 2026 کو فورسز نے جبری لاپتہ کیا تھا، جو 25 اکتوبر 2026 کو تربت کے مقام سے باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان بھر میں شہریوں کو غیر قانونی طور پر لاپتہ کرنے اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کرنے یا بلا مشروط آزاد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔