اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یاقبل از وقت الیکشن کے آپشنز دیئے،عمران خان

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ”اے آر وائی“ نیوزٹی وی چینل کوایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ نے اُنھیں اپوزیشن کی طرف سے تین آفرز دیں، عدم اعتماد کا سامنا کریں، استعفیٰ دیں یا پھر انتخابات کروائیں۔

اپنے سامنے موجود آپشنز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ (قبل از وقت) انتخابات سب سے بہترین طریقہ ہے اور وہ آخری لمحے تک تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ استعفیٰ کبھی نہیں دیں گے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ جب تک ایک شخص کو بھاری اکثریت نہیں ملتی، تب تک اس سسٹم کے اندر کبھی کہیں سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی کہیں سے بلیک میل ہوتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اُنھوں نے بڑی مشکل سے ساڑھے تین برس تک ملک چلایا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب دوبارہ انتخابات ہوں گے تو وہ عوام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اُنھیں اکثریت دی جائے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر وہ عدم اعتماد کا یہ ووٹ جیتتے ہیں تو قبل از وقت انتخابات کروا دینا ایک اچھا خیال ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے حکمتِ عملی بنا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ ہم الیکشن کروا دیں۔

عمران خان نے کہا کہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے سیاستدانوں کو این آر او اپنی حکومت بچانے کے لیے دیا، ’مجھے کوئی ضرورت نیہں تھی کہ میں اپنی حکومت بچاؤں، مشرف نے سب سے بڑی غداری مارشل لا لگا کر نہیں بلکہ این آر او دے کر کی۔‘

اُنھوں نے کہا کہ مشرف کے ہاتھ میں پورے ملک کے ادارے تھے تب بھی اُنھوں نے ان لوگوں کو معاف کر دیا جو کہ ’سب سے بڑا ظلم‘ ہے۔

اینکر پرسن ارشد شریف نے جب اُن سے نومبر دسمبر 2021 میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی پر ہونے والے تنازعے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو اُنھوں نے اس حوالے سے کھل کر بات کی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میں نے جنرل فیض کے ساتھ کئی سال کام کیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ سردیوں کا وقت ہمارے ملک کے لیے مشکل ہے۔ ایک ملک کی معیشت کو یقینی کیفیت چاہیے ہوتی ہے، میں کہہ رہا تھا کہ اس لیے ہمیں انھیں رکھنا چاہیے۔ ڈر افغانستان میں خانہ جنگی کا بھی تھا۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’اس لیے کہہ رہا تھا کہ سکیورٹی کے حوالے سے تجربہ کار شخص کو (آئی ایس آئی) کا سربراہ رہنا چاہیے۔‘

اُنھوں نے جنرل باجوہ کا نام لیے بغیر کہا کہ اُن کا اس حوالے سے ایک مختلف نظریہ تھا، جبکہ وہ خود ملک کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر سوچ رہے ہیں۔

جنرل باجوہ کو ہٹانے کے مبینہ منصوبے کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی پھیلائی گئی گمراہ کُن معلومات ہیں۔

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں مبینہ توسیع کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے اتنی دور تک کا نہیں سوچا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اُن کے اپنے آرمی چیف کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں تو اُنھوں نے کہا کہ ’ٹھیک ہیں۔‘

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان کو مضبوط فوج کی بہت ضرورت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ یہ لوگ آئے فوج (کی مدد سے) تھے اور کسی نے پاکستان کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا (شریف برادران) نے پہنچایا۔

اُنھوں نے کہا کہ اور پھر آصف زرداری کے آنے کے بعد سے ان تینوں کے باعث پاکستان خطے میں سب سے پیچھے رہ گیا۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز پاکستانی فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔

عمران خان نے مہنگائی اور گورننس کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تیل ہم باہر سے حاصل کرتے ہیں تو شہباز شریف کے پاس اسے سستا رکھنے کے لیے کیا حل ہے؟

عمران خان نے کہا کہ پاکستان ترسیلاتِ زر، اضافی ٹیکس محصولات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم سے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دے رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment