حال ہی میں ایشیا پیسفک گروپ کی طرف سے جاری ہونے والی باہمی جائز ہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے فنانسل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویز کردہ 40 میں سے دو سفارشات پر موثر عمل درآمد کیا ہے, 26 پر جزوی طور پر جب کہ 9 پر بڑی حد تک عمل کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھا جائے گا اور پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے ایشیا پیسفک گروپ کو آگاہ کر رکھے گا۔
ایشیا پیسفک گروپ کی طرف اس بات کا انکشاف ایک حال ہی میں جاری ہونے والی باہمی جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ ایک وقت سامنے آئی ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے آئندہ ہفتے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو تنطیم کی گرے لسٹ میں برقرر رکھا جائے یا نہیں۔
یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جون 2018 میں دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کی وجہ تنطیم کی گرے لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو روز قبل ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویزکردہ 27 میں سے 21 سفارشات پر پوری طرح عمل درآمد کر رہا ہے، جب کہ باقی چھ کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس لیے پاکستان جلد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان پیرس میں 21 سے 23 اکتوبر کر ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں شرکت کرے گا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان جلد ہی ایف اے ٹی ایف کی گرلے لسٹ سے نکل جائے گا۔
یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جون 2018 میں دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کی وجہ گرے لسٹ میں شامل کرتے ہوئے پاکستان کے لیے لائحہ عمل تجویز کیا تھا، جس پر عمل کر کے وہ تنطیم کی گرے لسٹ سے باہر آ سکتا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق اس نے کئی موثر اقدمات کیے ہیں۔ جب کہ پاکستان کی پارلیمان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ضروری ترامیم کی منظوری دی چکی ہے۔