گلگت بلتستان کی صوبے کی شکل میں ریاستی تقسیم قبول نہیں ،جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

0
144

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی باغ کا اجلاس زیرِ صدارت ضلعی صدر عمر حیات منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلعی عہدیداران کے علاوہ ممبران نے شرکت کی۔

اجلاس میں دورانِ گفتگو راہنماﺅں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو با اختیار سیٹ اپ دیا جائے۔ صوبہ بنا کر حقوق دینے کے نام پر ریاست کی تقسیم کو حتمی شکل دینے کے منصوبے کو تسلیم نہیں کریں گے، گلگت بلتستان کے عوام کو حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے موقف اپنانا چاہیے ۔بلوچستان، سندھ، پختونخواہ کے عوام کو 73 سال سے صوبوں کی بنیاد پر کتنے حقوق ملے ہیں۔

ان صوبوں کے وسائل کی ہر دور میں لوٹ کھسوٹ کی جاتی رہی ہے جو حال میں بھی شدت سے جاری ہے، گلگت بلتستان اور نام نہاد آزاد کشمیر کے عوام کے جمہوری اور بنیادی حقوق کے تمام راستے با اختیار حکومتوں کے قیام سے ہو کر گزرتے ہیں، ریاست جموں کشمیر کی تمام قومیتوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن ریاست جموں کشمیر کی منقسم اور متنازعہ حالت میں کسی قابض ملک کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی اکائی کو صوبہ بنائے یا انضمام کرے، ریاست سے قابض قوتوں کے انخلا اور ریاست کی وحدت کی بحالی کے بعد تمام قومیتوں کو مساویانہ حقوق بشمول حقِ علیدگی حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر گلگت بلتستان سمیت پوری ریاست میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے۔

رہنماﺅں نے مزید کہا کہ مظفرآباد حکومت فی الفور معاہدہ کراچی کو توڑنے کا اعلان کرے تا کہ دونوں اطراف کے عوام میں موجود ابہامات ختم ہو سکیں، گلگت بلتستان اور نام نہاد آزاد کشمیر کو ملانے والے تمام قدرتی راستوں کو کھولا جائے اور عوام کو آپس میں ملنے کا حق دیاجائے۔

اجلاس میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں دس دن کے مقررہ وقت کے اندر ضلعی ہسپتال میں ڈائیلاسیز مشین کے فنگشنل ہونے پر عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے رہنماﺅں نے کہا کہ منظم عوام بہت بڑی طاقت ہیں عوام اپنی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے منظم آواز بلند کریں تو فتح منظم عوام کی ہی ہوتی ہے۔ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی عوامی حقوق کی جدوجہد میں ہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کرتی رہے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here