حوثیوں سے وابستہ یمنی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے قریب سعودی فضائی حملوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں سے متعلق اطلاعات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام صبا نیوز ایجنسی کے مطابق یہ حملے سنیچر سات نومبر کو مشرقی صنعا کے علاقے بنی حشیش میں رہائشی علاقے میں کیے گئے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔
صنعا کے سہتنا ہسپتال کے ڈائریکٹر عبدالعزیز الدیلمی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امدادی کارکنوں سمیت متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’حملے جاری ہیں۔ جب بھی امدادی کارکن موقع پر پہنچتے ہیں، ایک اور حملہ ہو جاتا ہے۔ ہم اپنے بعض امدادی کارکنوں کو بھی ان حملوں میں کھو چکے ہیں۔‘
ان کے مطابق کئی زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ بعض افراد کے سر، سینے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئی ہیں اور ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔
اگر ان حملوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ جولائی میں سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملے ہوں گے۔
لڑائی کے دوبارہ آغاز نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کو عملاً ختم کر دیا ہے۔
حوثیوں نے حالیہ مہینوں میں سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے اپنے یمنی اتحادیوں کی حمایت میں یمن میں فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر تنازع سے جڑی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یمن کی طویل جنگ کو ہوا دی ہے۔