پولینڈ میں فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، مبینہ حملہ آور کے گھر سے 3 افراد کی لاشیں بھی برآمد

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پولینڈ کے شہر کراکوف کے تاریخی مرکزی چوک میں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک برطانوی شہری سمیت چھ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق 25 سالہ مشتبہ حملہ آور کے گھر سے تین افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور کا تعلق انتہائی دائیں بازو کے نظریات سے تھا۔

پولیس کی جانب سے مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی کے دوران وہاں سے تین لاشیں بھی برآمد ہوئیں ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق واقعہ سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تقریباً تین بجے پیش آیا، جب ایک شخص گاڑی میں سوار ہو کر چوک میں داخل ہوا اور مبینہ طور پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔

پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق حملہ آور کی گاڑی سے اسلحے کے ٹکرے اور گولیاں ملی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ کارروائی کے دوران مشتبہ حملہ آور کو گولی مار دی گئی، جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص کراکوف کے مرکزی مارکیٹ سکوائر میں گاڑی چلاتے ہوئے داخل ہوا اور پھر اپنی گاڑی سے ہی اندھا دھند لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔

یاد رہے کہ یہ علاقہ شہر کا مصروف مرکزی مقام اور سیاحوں میں مقبول جگہ ہے۔

واقعے کی ویڈیوز میں لوگوں کو خوف و ہراس کے عالم میں بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ گولیوں کی آوازیں بھی واضح طور پر سنی جا سکتی ہیں۔

حکام کے مطابق مسلح پولیس اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور مشتبہ شخص کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

حملے کے آغاز کے تین منٹ کے اندر مشتبہ شخص کو گولی مار دی گئی، جس سے پولیس کے مطابق مزید بڑے جانی نقصان کو روکا گیا۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ شخص کو گولی لگنے کے زخم کے باعث آپریشن کے بعد ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔

حکام نے رہائشیوں اور سیاحوں سے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک علاقے سے دور رہیں۔

پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹسک نے زخمی پولیس اہلکاروں کی شناخت سینئر کانسٹیبل یاکوب کولِک اور سینئر کانسٹیبل آرتور مورانسکی کے ناموں سے کی۔

ڈونلڈ ٹسک نے بتایا کہ حملے کے بعد مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی کے دوران دو خواتین اور ایک مرد کی لاشیں ملی ہیں۔

پولش حکومت کے ایک وزیر کے مطابق حملہ آور کو گرفتار کرتے ہوئے تین گولیاں لگنے والے پولیس اہلکار کی حالت تشویش ناک ہے اور ان کا آپریشن جاری ہے۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق مشتبہ شخص نے فوجی طرز کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے پاس فوجی معیار کا ہتھیار تھا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوجی اہلکار نہیں تھا۔

ترجمان کے مطابق اس کی گاڑی سے بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

فائرنگ کا یہ واقعہ یورپ کے سب سے بڑے قرونِ وسطیٰ کے چوکوں میں سے ایک میں پیش آیا، جو ایک مصروف اور مقبول سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے۔

ایپسوچ سے تعلق رکھنے والے جوناتھن بالشا اپنی پولش دوست ڈومینیکا کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ فائرنگ شروع ہونے کے وقت دونوں مین مارکیٹ سکوائر کے ایک کونے میں واقع سینٹ میریز باسیلیکا کے باہر کھڑے تھے۔

جوناتھن نے بتایا کہ ’ہم چرچ کے پہلو کی جانب بھاگے، ایک سائیڈ دروازے سے اندر گئے اور کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک چھپے رہے جب تک فائرنگ رک نہیں گئی۔ اس دوران بہت زیادہ گولیاں چلائی گئیں، آوازوں سے لگ رہا تھا جیسے مختلف قسم کے ہتھیار استعمال ہو رہے ہوں۔ دو الگ الگ قسم کی آوازیں واضح طور پر سنائی دے رہی تھیں۔‘

واقعے کے دوران ایک گزرتی ہوئی ٹرام بھی گولیوں کی زد میں آئی، جس سے اس کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، تاہم کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا۔

Share This Article