بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کی ممکنہ بندش سے متعلق اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں تعلیمی سہولیات پہلے ہی محدود، غربت اور بے روزگاری سنگین مسائل ہیں، وہاں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے والے ادارے کو بند کرنے کی کوششیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ بی ای ای ایف گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان کے ہزاروں مستحق طلبہ کو وظائف فراہم کرکے ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے کی بندش سے نہ صرف زیرِ تعلیم طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا بلکہ وہ نوجوان بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم ہو جائیں گے جو معاشی مشکلات کے باعث اپنی تعلیم جاری رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی تعلیمی پسماندگی، تعلیمی اداروں کی کمی، معاشی مشکلات اور روزگار کے محدود مواقع جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں اور وظائف فراہم کرنے والے منصوبوں کو مزید وسعت دے، نہ کہ انہیں ختم کرنے یا غیر مؤثر بنانے کی کوشش کرے۔ بی ای ای ایف محض ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی امیدوں اور نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل سے جڑا ہوا منصوبہ ہے۔ اس کے تحت وظائف حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیم اور مستقبل کو کسی انتظامی یا مالیاتی فیصلے کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔
بی ایس او واضح کرتی ہے کہ تعلیم ہر نوجوان کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس حق کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔ تنظیم مطالبہ کرتی ہے کہ بی ای ای ایف کی بندش سے متعلق تمام اقدامات اور تجاویز فوری طور پر واپس لیے جائیں، ادارے کے مالی و انتظامی مسائل کو حل کرکے اسے مزید فعال بنایا جائے اور زیرِ تعلیم طلبہ کے وظائف کا تسلسل ہر صورت برقرار رکھا جائے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کے تعلیمی مواقع محدود کرنے والے کسی بھی فیصلے کی مخالفت کی جائے گی اور بی ایس او طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔