بلوچستان میں ریاستی اداروں اور فورسز کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا گھناؤنا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ اعداد و شمار اور تفصیلات کے مطابق ایک اور نوجوان کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایک طویل جبری قید کے بعد ایک اور شخص بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، 20 سالہ طالب علم کفایت بلوچ (ولد ہدایت اللہ بنگلزئی)، جو کہ مشرقی بائی پاس کوئٹہ کے رہائشی ہیں، کو 18 ستمبر 2026 کی رات تقریباً 9:00 بجے جامعہ بلوچستان (University of Balochistan) کے سامنے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے (سی ٹی ڈی / CTD) کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
تاحال ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے، جس کی وجہ سے اہل خانہ شدید اضطراب اور پریشانی کا شکار ہیں۔
دوسری جانب، جبری گمشدگیوں کے ایک اور کیس میں خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پنجگور کے علاقے جئین پروم کے رہائشی محمود (ولد ہاشم) بازیاب ہو گئے ہیں۔
انہیں رواں سال 2 اکتوبر 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جو طویل حراست اور ذہنی و جسمانی اذیت کے بعد بالآخر 31 اکتوبر 2026 کو پنجگور میں بازیاب ہو کر اپنے گھر واپس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
سماجی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں عام شہریوں، طلباء اور سیاسی کارکنان کو بلاجواز لاپتہ کرنا اور بعد ازاں مہینوں کی قید کے بعد چھوڑنا ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے، جس کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔