بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے سابق کمانڈر انچیف بشیرزیب بلوچ سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے کے بعد اب مزید تنظیم کے سربراہ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔
ترجمان کے مطابق ؎بلوچ لبریشن آرمی کے سابق کمانڈر انچیف بشیرزیب بلوچ تنظیم کے آئین کے مطابق سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے کے بعد اب مزید تنظیم کے سربراہ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ نئے کمانڈر انچیف کے انتخاب تک تمام انتظامی، عسکری اور پالیسی ساز اختیارات باضابطہ طور پر بی ایل اے کے اعلیٰ ترین ادارے سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کردیئے گئے ہیں، جبکہ تمام محاذوں پر عسکری کارروائیاں بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں گی۔
ترجمان نے کہا کہ بی ایل اے کے فکری و ساختاری بانی استاد اسلم بلوچ نے سنہ 2018 میں تنظیم کی ازسرنو تشکیل کے دوران موروثی سیاست اور تاحیات سربراہی کا ہمیشہ کے لیئے خاتمہ کرکے بی ایل اے کو میرٹ، شفافیت اور ادارتی اصولوں کی بنیادوں پر استوار کیا تھا۔ انہوں نے یہ رہنما اصول قائم کیا کہ اس تحریک میں چاہے کوئی کمانڈر کتنا ہی بااثر، قد آور یا اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہو، کوئی بھی فرد تاحیات کمانڈر انچیف نہیں رہ سکتا۔ اسی فکری وتنظیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیئے بی ایل اے کے آئین میں ایک واضح اور متفقہ طریقہ کار شامل کیا گیا تاکہ اگر کبھی ضرورت پیش آئے تو قیادت کی ہموار منتقلی کے لیئے ایک قائم اور پرامن آئینی راستہ موجود رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسی اصول کے مطابق ۱۶ اکتوبر کو بی ایل اے کی اعلیٰ ترین اداروں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئینی وتنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران تمام کمانڈروں نے متفقہ طور پر قیادت کی منتقلی کے حق میں فیصلہ دیا تاکہ تنظیم کی سرگرمیوں کو نئی رفتار دی جاسکے۔
جیئند بلوچ نے کہا کہ بلوچ مزاحمتی تحریک کی تاریخ میں یہ پہلا اور تاریخی موقع ہے کہ کسی مسلح مزاحمتی تنظیم نے بغیر کسی اندرونی بکھراؤ، ٹوٹ پھوٹ یا تصادم کے، مکمل پرامن، باوقار اور مکمل آئینی طریقہ کار کے ذریعے اپنے اعلیٰ ترین سربراہ کو جمہوری طریقے سے تبدیل کیا ہے۔ ماضی میں مزاحمتی تنظیموں کے پاس قیادت تبدیل کرنے کا کوئی جمہوری وآئینی میکانزم موجود نہیں تھا، جس کے نتیجے میں تنظیمیں اندرونی خلفشار اور بکھراؤ کا شکار ہوجاتی تھیں۔ بی ایل اے اور پوری بلوچ قوم کے لیئے یہ فخر اور اطمینان کا مقام ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں قیادت کی تبدیلی کیلئے پرامن اور جمہوری روایت کی بنیاد ڈال دی گئی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کی اعلیٰ مرکزی کمانڈ اور آپریشنل محاذ اس تاریخی فیصلے کے پیچھے متفقہ اور اجتماعی طور پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ صرف وہی تحریکیں پائیدار اور مستقل کامیابی حاصل کرتی ہیں جو انفرادی شخصیات پر انحصار کرنے کے بجائے خود کار آئینی اداروں کے ذریعے کام کرتی ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تنظیم کے اندر ایک مضبوط داخلی نظام قائم ہوچکا ہے جو ہمیشہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ بی ایل اے کی پوری رکنیت منظم، ذمہ دار اور متحد رہے۔ یہ عمل نہ صرف پوری بلوچ قوم کا اپنی قومی فوج پر اعتماد مزید مضبوط کرے گا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ بی ایل اے ذمہ داری، سخت ڈسپلن اور انقلابی اخلاقیات کے اعلیٰ معیارات پر عمل کرتے ہوئے ایک نئے دور میں داخل ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ آئینی قدم تنظیم کی مجموعی عسکری کارکردگی، جنگی حکمت عملی، دفاعی پالیسیوں، فیلڈ آپریشنز یا چین آف کمانڈ پر کوئی اثر ڈالے بغیر قیادت کی پرامن منتقلی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ تمام محاذوں پر ہماری آپریشنل سرگرمیاں بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں۔ قابض پاکستانی افواج پر ہمارا عسکری ونفسیاتی دباؤ برقرار ہے اور تمام منصوبے ہمارے طے کردہ اہداف کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
تنظیم کے مطابق اس اصولی قدم کو بی ایل اے کے تمام آپریشنل محاذوں، ریجنل وکیمپ کمانڈران اور تمام تخصیصی یونٹس کی کامل اور غیر مشروط توثیق وحمایت حاصل ہے۔ ان اصولوں کے مطابق، اگلے مراحل کے اختتام پر نئے کمانڈر انچیف کے نام کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی شہداء کے مقدس ارمانوں، فکری اصولوں اور بلوچ قومی آزادی کی ضامن تنظیم ہے۔ ہماری یہ قومی جنگ پوری قوت، تنظیم اور محکم عزم کے ساتھ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک قابض پاکستانی افواج کا مکمل اور حتمی انخلا نہ ہو جائے اور آزاد وخودمختار بلوچستان قائم نہ ہو جائے۔