پاکستانی فوج کا کچھی اور خاران میں 17 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی فوج نے بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں 17 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے ۔ بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں سکیورٹی فورسز کے 2 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 17 مسلح افراد ہلاک ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دونوں کارروائیاں یکم نومبرکوکی ہیں۔

انہوں نے اپنے دعوے میں کہا کچھی ضلع کے علاقے سنی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، اس دوران مسلح افراد نے شہر میں سڑک بند کرکے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔جس کے نتیجے میں 10 مسلح افراد ہلاک ہوگئے، اور ان سے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمدکیا گیا۔

بیان میں دعویٰ کیاگیا کہ دوسری کارروائی ضلع خاران میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے ایک ٹھکانے کا سراغ لگا کر اسے تباہ کر دیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 7 مسلح افراد ہلاک ہو گئے۔ اور ان سے بھی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاکستانی فوج کا ایک سپاہی حکمت اللہ ہلاک ہوگیا ۔جس کی عمر 25 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع کرک سے تھا۔

واضع رہے کہ بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ناکہ بندیوں، اسنیپ چیکنگ، فورسز کے قافلوں کو نشانہ بنانے اور فوجی کیمپوں و چیک پوسٹوں پر ہونے والے مہلک حملوں میں 90 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کی جانب سے کچھی اور خاران کے اضلاع میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 17 مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق کے مطابق اب تک ان کارروائیوں اور ہلاکتوں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور نہ ہی فورسز یا آئی ایس پی آر کی جانب سے ہلاک کیے گئے افراد کی کوئی شناخت یا لاشیں میڈیا کے سامنے ظاہر کی گئی ہیں۔

سماجی و انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس طرح کے جھوٹے یا مبہم فوجی آپریشنز کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، جن کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ جن افراد کو "دہشت گرد” یا "مسلح شدت پسند” قرار دے کر مارا گیا، وہ دراصل پہلے سے ریاستی اداروں کے ہاتھوں جبری لاپتہ کیے گئے افراد تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھی اور خاران کے حالیہ مبینہ آپریشن میں مارے جانے والے افراد بھی وہی بے گناہ شہری ہو سکتے ہیں جو طویل عرصے سے جبری گمشدگی کا شکار تھے۔

Share This Article