یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں یورپی ممالک کو فوسل فیولز کی درآمد پر اب تک 127 ارب یورو کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔
منگل کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یورپ کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
ارسلا وان ڈر لیئن نے زور دے کر کہا کہ اس صورتحال نے ایک بار پھر بیرونی توانائی کے ذرائع پر انحصار کے حوالے سے یورپ کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ برِّ اعظم کو توانائی کے شعبے میں اپنی خود مختاری اور سلامتی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔