یمن کا حوثی جنگجوؤں پر ایران کی مدد سے اسلحہ اور جدید فوجی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا الزام

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی انصار اللہ گروپ کے بار بار حملوں کی مذمت کرے اور شہریوں و شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ حکومت نے اسلحے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب سفیر عبداللہ السعدی نے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کیا۔

السعدی کے مطابق، حوثی جنگجوؤں نے 28 اکتوبر کو عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ ہوائی اڈے پر یہ چھٹا حملہ تھا۔ ان حملوں سے مسافروں اور ہوائی اڈے کے عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑیں جبکہ متعدد پروازوں کا رخ بھی تبدیل کرنا پڑا۔

یمنی حکومت نے شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کو ’جنگی جرم اور مسافروں، پروازوں کے عملے اور ہوائی اڈے کے کارکنوں کی زندگیوں کے لیے براہِ راست خطرہ‘ قرار دیا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ شہری تنصیبات کو بار بار نشانہ بنائے جانے پر عالمی برادری کو محض تشویش اور مذمت کے بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ شہری ہوائی اڈوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب ہو۔

سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں یمن نے خبردار کیا کہ حوثی جنگجو سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور ایران کی مدد سے جدید ہتھیار اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کر رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی پابندیوں کے نظام کی مؤثریت کو سنگین چیلنج درپیش ہے۔

یمنی حکومت نے ایران پر حوثی جنگجوؤں کو فوجی مدد فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس کے مطابق، ایرانی مدد کے باعث حوثی جنگجو بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتیوں کے ذریعے حملے کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی اداروں کی بحالی اور سلامتی و استحکام کے قیام میں مدد کرے۔ اس مقصد کے لیے طے شدہ اصولوں، بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عملدرآمد پر زور دیا گیا۔

حکومت نے چار ملین آبادی والے شہر تعز کے مسلسل محاصرے پر بھی تشویش ظاہر کی اور اس کے سنگین انسانی نتائج سے خبردار کیا۔

Share This Article