نئی دہلی کی او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے اعلامیے میں انڈیا سے متعلق حوالوں کی مذمت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

انڈین وزارت خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے مشترکہ اعلامیے میں انڈیا کا حوالہ دیے جانے کی مذمت کی ہے۔

نئی دہلی نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا ’او آئی سی کے نام نہاد جموں و کشمیر رابطہ گروپ کے مشترکہ اعلامیے میں انڈیا سے متعلق غیر ضروری اور حقائق کے منافی حوالوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔‘

انڈیا کا کہنا ہے کہ او آئی سی کو ’ایسے معاملات پر اظہارِ رائے کا کوئی اختیار حاصل نہیں جو مکمل طور پر انڈیا کے اندرونی معاملات ہیں۔‘

’جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہیں اور سیاسی مقاصد پر مبنی پروپیگنڈا اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ایسے محرکات پر مبنی بیانیوں کی بار بار توثیق صرف او آئی سی کی ساکھ کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔‘

انڈین وزارت خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کو اپنے من گھڑت اور محرکات پر مبنی پروپیگنڈے کی تشہیر کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے بجائے او آئی سی کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ پاکستان کو خود احتسابی کا مشورہ دے کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے جاری دہشت گردی کے مسلسل خطرے سے نمٹنے پر توجہ دے۔‘

انڈیا نے اس بیان میں پاکستان پر دہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا جس کی ماضی میں کئی بار اسلام آباد تردید کر چکا ہے۔

خیال رہے کہ او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے رکن ممالک آذربائیجان، پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور نائجر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کا نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اجلاس ہوا ہے۔

اس گروپ نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام جموں و کشمیر کے تنازعے کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل پر منحصر ہیں۔

پاکستان کی جانب سے شیئر کیے گئے اس مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں ’بعض انڈین رہنماؤں کے بے بنیاد دعوے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔‘

اس بیان میں انڈیا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’غیر قانونی طور پر انڈیا کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بنائے، تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، کالعدم قرار دی گئی کشمیری سیاسی جماعتوں پر عائد پابندی ختم کرے، تمام سخت گیر قوانین منسوخ کرے اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article