بنگلہ دیش: محمد علی جناح بابائے قوم نہیں،ڈھاکہ یونیورسٹی میں تصاویر پھاڑدیئے گئے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی نے اپنے طلبہ یونین کے تاریخی آرکائیو میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی تصاویر آویزاں کیے جانے اور پھر ایک سابق طالب علم کی جانب سے انھیں پھاڑے جانے کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

تصاویر پھاڑے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ محض یونیورسٹی کے ایک آرکائیو تک محدود نہیں رہا بلکہ بنگلہ دیش میں محمد علی جناح، پاکستان اور 1971 کی تاریخ کے بارے میں جاری بحث کا حصہ بن گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص تصویری گیلری سے محمد علی جناح کی تصاویر ہٹانے کے بعد انھیں فریم سے نکال کر پھاڑ رہا ہے۔ بعدازاں مذکورہ شخص کی شناخت ابو طیب کے نام سے ہوئی ہے جو ڈھاکہ یونیورسٹی کا سابق طالب علم ہے۔

بنگلہ دیش کے انگریزی اخبار ’دی ڈیلی سٹار‘ کے مطابق اس گیلری کو 13 ستمبر کو دوبارہ کھولا گیا تھا او یہ واقعہ 14 ستمبر کو پیش آیا۔ اس میں بنگلہ دیش کی تاریخ، قیام اور ہندوستان کی تقسیم کے اہم واقعات اور طلبہ تحریکوں سے متعلق تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔

یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا دعویٰ ہے کہ شیخ حسینہ کے دور میں اس گیلری کو عوامی لیگ کے بیانیے کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنا دیا گیا، لہذا اسے تبدیل کر کے تاریخ درست کرنے کی کوشش کی گئی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ابو طیب نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ محمد علی جناح ہمارے نہیں بلکہ پاکستان کے بابائے قوم تھے۔

’وہ ہمارے لیے ولن تھے۔ وہ پاکستان کے بابائے قوم تھے، لیکن جب وہ بنگالیوں اور بنگلہ زبان کے خلاف ہوئے تو ہمارے لیے ولن بن گئے۔‘

’دی ڈیلی سٹار‘ کے مطابق اس گیلری میں بانی پاکستان کی تین تصاویر آویزاں کی گئی تھیں جن میں سے ایک مارچ 1948 کی ہے جس میں محمد علی جناح ڈھاکہ یونیورسٹی میں اُردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔

دوسری تصویر سنہ 1940 کو لاہورمیں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی ہے جبکہ تیسری تصویر پاکستانی انگریزی اخبار ڈان کے سنہ 1970 کے الیکشن سے متعلق تراشے پر ہے جس پر بانی پاکستان کی تصویر ہے۔

اس واقعے کو کئی روز گزر جانے کے باوجود یہ بحث جاری ہے کہ بنگلہ دیش میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے بارے میں لوگ کیا رائے رکھتے ہیں اور بنگلہ دیش میں انڈیا نواز سمجھی جانے والی شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے باوجود یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تصویری گیلری میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی کوئی نمایاں تصویر موجود نہیں ہے۔ دی ڈیلی سٹار کے مطابق گیلری میں شیخ مجیب الرحمان کے بیٹوں کی 1974 کی شادیوں کی ایک تصویر اور ان سے متعلق اخبارات کی تین تراشے وہاں موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ قومیت، مذہب اور زبان کی وہ میراث، جنھوں نے بنگلہ دیش کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، آج بھی سیاسی طور پر کس قدر اہم ہیں اور 2024 کے اُس انقلاب نے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، ماضی کے کئی بیانیوں کو کس طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article