وائٹ ہاؤس نے ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری سکول اور لامرد کے سپورٹس کمپلیکس پر حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران پر حملے سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ ’موجودہ تنازع میں ایران واحد فریق ہے جس نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی ایک نئی آزاد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ’اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ امریکہ میناب کے ایک سکول اور لامرد میں ایک سپورٹس کمپلیکس پر حملوں کا ذمہ دار ہے، اور یہ کہ یہ حملے جنگی جرائم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔‘
اینا کیلی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ’انسانی حقوق کے لیے کچھ حاصل نہیں کر پائی۔‘
ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن نے جمعرات کو کہا تھا کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ فروری میں ایران میں ایک سکول اور کھیلوں کے ایک مقام پر ہونے والے دو فوجی حملوں کے پیچھے امریکہ تھا، اور یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے مشن کی یہ رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی انسانی قانون شہری تنصیبات کو حملوں کا ہدف بنانے سے منع کرتا ہے اور شہری مقامات اور فوجی اہداف میں امتیاز برتنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میناب کے پرائمری سکول کو ہدف بناتے وقت امریکہ اس بات کی تصدیق کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا کہ آیا وہ واقعی ایک فوجی ہدف تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا: ’امریکہ کو اس خطرے کا خاطر خواہ اندازہ تھا کہ ایک سویلین مقام ہدف بن سکتا ہے، اس کے باوجود سکول کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔‘
جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فروری میں ایران کے لڑکیوں کے ایک سکول پر ’جان بوجھ کر‘ حملہ نہیں کیا گیا تھا۔
ماہرین نے لامرد میں واقع ایک سپورٹس سینٹر پر حملے کے بارے میں بھی اسی نوعیت کا نتیجہ اخذ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک سکول کو نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حملہ بھی اندھا دھند تھا اور اس لیے جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے مذکورہ دن لامرد شہر میں کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔