کراچی کے علاقے ملیر میں ‘ایجوکیشن سٹی’ کے نام پر زمینوں پر قبضے اور جبری بے دخلی کے باعث ہزاروں خاندانوں کے جدی پشتی زمینوں سے محروم اور بے گھر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے ملیر کراچی میں ’ایجوکیشن سٹی‘ پروجیکٹ کے نام پر مقامی بلوچ آبادی کی جبری بے دخلی اور زمینوں پر قبضے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
تنظیم نے واضح کیا ہے کہ ترقی کے نام پر مقامی آبادی کو ان کی آبائی زمینوں سے محروم کرنا اور ان کی شناخت و ماحولیات کو تباہ کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
بی وائی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایجوکیشن سٹی پروجیکٹ ملیر کی زراعت، صدیوں پرانے گوٹھوں، تاریخی و ثقافتی مقامات اور بالخصوص بلوچ برادری کے ذرائع معاش کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
بی وائی سی نے موقف اختیار کیا کہ جو ترقی سویلین اور مقامی آبادی کو بے گھر کر کے، ان کے ماحول اور تاریخی شناخت کو مسخ کر کے مسلط کی جائے، اسے کسی طور ترقی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ ملیر میں جاری جبری بے دخلی اور زمینوں کی غصب کاری کے خلاف آواز اٹھائے۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متاثرہ بلوچ عوام کے حقوق، ان کی زمینوں، تاریخی ورثے اور ذرائع معاش کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہو۔
بیان کے اختتام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ملیر کے متاثرہ اور بے گھر کیے جانے والے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ وہ اپنے حقوق اور آبائی زمینوں کے دفاع کے لیے ملیر کے عوام کی پرامن جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔