حزب اللہ کالبنان اسرائیل معاہدے اور ہتھیار ڈالنے سے انکار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

لبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جمعے کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی حمایت یافتہ گروپ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔‘

انھوں نے المنار ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ’ہم فریم ورک معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات اس وقت شروع ہوئے تھے جب دو مارچ کو حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے کے بعد جنگ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حملوں اور لبنان میں زمینی کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لبنانی حکام کے مطابق جنگ میں 4,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جون کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچے تھے، جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فورسز کا مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ اس عمل کا آغاز ’ٹیسٹ زونز‘ سے ہونا ہے۔

نعیم قاسم نے اس معاہدے کو ’ناجائز، غیر قانونی، توہین آمیز اور لبنان کی خودمختاری کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ ’حزب اللہ ٹیسٹ زونز اور کسی بھی تصدیقی طریقہ کار کی مخالفت کرتی ہے۔‘

انھوں نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عمل درآمد کی حمایت بھی کی اور کہا کہ ’ہم سر بلند رکھیں گے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article