نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے 160 افراد ہلاک، 900 سے زائدافراد لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے شدید تباہی مچی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 160 سے زائد ہو گئی ہے جبکہ سیکڑوں غیر ملکی سیاحوں سمیت بڑے پیمانے پر لوگ لاپتہ ہیں۔

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 160 تک پہنچ گئی ہے۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق 403 سیاح اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 200 خواتین اور 203 مرد شامل ہیں۔ حکام کے مطابق غیر ملکی لاپتہ افراد کا تعلق 26 مختلف ممالک سے ہے، جن میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔ بیشتر لاپتہ افراد مانسرووار کی جانب سفر کر رہے تھے، جو انڈیا اور نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

اس سے قبل نیپالی حکام کی جانب سے تقریباً 579 سیاحوں کے لاپتہ ہونے کا بتایا گیا تھا جن میں 466 غیر ملکی شامل تھے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دونوں جانب سے جاری اعداد و شمار میں کچھ افراد دو بار شمار ہوئے ہیں یا نہیں۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق نیپال سے متصل تبت کے ضلع گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہو گئی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بدستور 3 ہے۔ گیرونگ کی سرحد چین اور نیپال کے درمیان سیاحوں اور آمدورفت کی مرکزی گزرگاہ ہے جہاں حادثے کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات دی گئی تھیں۔

سیلابی ریلوں کی شدت کے باعث دریائے تریشولی پر واقع متعدد پل تباہ ہو گئے ہیں۔ بی بی سی ویریفائی کی تصدیق شدہ ویڈیوز کے مطابق بالائی علاقوں سے بہہ کر آنے والے ملبے نے دو الگ پلوں کو نشانہ بنایا۔

تریشولی قصبے سے 27 کلومیٹر مغرب میں واقع گھاٹ بیسی پل ایک دوسرے پل کے ملبے سے ٹکرانے کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہو کر سیلابی پانی میں بہہ گیا۔

گھاٹ بیسی سے 6 کلومیٹر مغرب میں واقع دھاڈنگ بیسی پل بھی سیلابی ریلے اور اپنے ساتھ بہہ کر آنے والے پل کے ملبے کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوا۔

نیپالی فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں (خصوصاً رسووا اور نوواکوٹ اضلاع) میں زمینی و فضائی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ کے مطابق فوج اب تک 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے، جن میں تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے 3 کارکن بھی شامل ہیں۔ امدادی کاموں میں نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس بھی حصہ لے رہی ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article