زیارت حملے میں 31 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی انکوائری کے لئے کمیشن قائم ،کام شروع

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کے حملے میں31 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی انکوائری کمیشن نے کام شروع کردیا ہے۔

عدالتی انکوائری کمیشن کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد عامر رانا کو مقرر کیا گیا ہے۔

کمیشن نے ان تمام افراد کو جو بطور گواہ پیش ہونا چاہتے ہیں یا کوئی دستاویز پیش کرنا چاہتے ہیں کہا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے 28 اگست تک ہائیکورٹ میں واقع کمیشن کے دفتر میں اپنے ناموں کا اندراج کرائیں۔

خیال رہے کہ رواں سال جولائی کے اوائل میں ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے مانگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کے سائٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 9 پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ باقی اہلکاروں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

اس واقعے کے خلاف مارے جانے والے اہلکاروں کے لواحقین اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے دس روز تک کوئٹہ میں دھرنا دیا تھا۔ دھرنے کے شرکاء کا ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ واقعے کا عدالتی کمیشن کے زریعے تحقیقات کرائی جائے۔

عدالتی انکوائری کمیشن کے مندرجہ ذیل ٹرمز آف ریفرینس کے تحت تحقیقات کرے گی۔

مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا باعث بننے والے حقائق و حالات کی انکوائری کر کے تعین کرنا کہ مذکورہ تنصیب کی سکیورٹی کی ذمہ داری، ان پولیس اہلکاروں کو کس طریقہ کار کے تحت اور کن بنیادوں پر سونپی گئی؟

یہ تعین کرنا کہ آیا سابق لیویز فورس کے اہلکار،محدود اسلحہ و ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ کائونٹر انسرجنسی یا دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے مناسب طور پر تربیت یافتہ تھے یا نہیں، اور ان کو ایسے حساس اور پُرخطر آپریشن کے لیے محدود وسائل کے ساتھ کیوں تعینات کیا گیا تھا؟

اس امر کی تحقیق کرنا کہ آیا مانگی ڈیم پمپنگ سٹیشن پر تعینات پولیس اہلکاروں کو خاطر خواہ اسلحہ، گولہ بارود اور اضافی کمک اور نفری فرا ہم کی گئی تھی یا نہیں؟ اور اگر نہیں کی گئی تھی تو اس کوتاہی کے ذمہ داروں کا تعین کرنا۔

یہ معلوم کرنا کہ آیا تعینات اہلکاروں کو اسلحہ، گولہ بارود اور اضافی نفری سمیت مطلوبہ رسدی معاونت مناسب مقدار میں اور بروقت فراہم کی گئی تھیں یا نہیں؟ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کی کمی اور کوتاہی کے جواز کی معقولیت اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنا۔

ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور دیگر سیکورٹی اداروں /محکموں کے خلاف قانونی کاروائی کی سفارش کرنا، اور اس امر کو یقینی بنانا کہ اگر کوئی شخص قصوروار پایا جائے تو حکومت متعلقہ ذمہ داران کے خلاف تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرے۔

تحقیقاتی کمیشن کو ضابطہ فوجداری اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت تحقیق کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے، جیسا کہ عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کرنا، جائے وقوعہ کا معائنہ، جیو فینسنگ، ملائی گئی ٹیلیفون ، موبائل کالز کی تفصیلی ریکارڈ حاصل کرنا وغیرہ۔

تحقیقاتی کمیشن کی کاروائی، کمیشن کی صوابدید کے مطابق انجام دی جائے گی، اور کمیشن ایسے عام افراد کو، جو واقعہ / حملے کے حقائق سے واقف ہوں، اپنے سامنے پیش ہو کر گواہی / بیان قلم بند کرانے کے لیے طلب یا مدعو کرسکے گا۔

مستقبل میں ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کی روک تھام ،اہم اور حساس تنصیبات کے تحفظ، ہنگامی رد عمل کے طریقہ کار، سیکورٹی آلات اور دیگر متعلقہ اقدامات کو مزید موثر اور مضبوط بنانے کے لیے، اگر ضروری ہو، مناسب سفارشات پیش کرنا۔

مارے جانے والوں کے لواحقین کو یہ مکمل موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ متعلقہ حقائق کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنا موقف بیان کریں اور گواہی / بیان قلم بند کرائیں۔

واقعہ پیش آنے سے قبل سکیورٹی پلان اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ریکارڈ کو طلب کر کے اس کا جائزہ لینا، اور یہ تعیین کرنا کہ آیا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قریبی علاقوں میں تعینات ہونے کے باوجود مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کو مناسب حفاظتی حصار یا معاونت فراہم کرنے سے قاصر رہے؟

یاد رہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کی کمیشنوں سے کوئی انصاف ممکن نہیں ہوسکی محض عوامی رائے کو بدلنے یا انہیں ڈی ٹریک کرنے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈوں کا سہاراہ لیا جاتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article