ریاست نہ بلوچستان کے عوام سے بات کرے گی، نہ ترقی مخالف عناصر سے، پاکستانی فوج

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ کے دوران بلوچستان کی صورتحال پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات سے متعلق بعض اوقات جان بوجھ کر منفی تاثر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض بااثر طبقات اور سردار بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ عام اور غریب طبقے کے لوگ آگے بڑھیں۔ ان کا واضح کہنا تھا کہ ریاست بلوچستان کے عوام سے بات کرے گی، نہ کہ ان عناصر سے جو اپنے مفادات کے لیے بلوچستان کی ترقی کی مخالفت کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن میں سے سب سے بڑی تعداد بلوچستان میں ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اکیلے بلوچستان میں 31 ہزار آپریشنز کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ان آپریشنز کی تعداد 7,177 رہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز کے شدید دباؤ کے نتیجے میں مسلح گروہ اب بوکھلاہٹ میں سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ رواں سال اب تک ان عناصر کی کارروائیوں میں 178 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انہوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور 60 مقامات پر آگ لگانے کے واقعات بھی کیے۔ یہ کارروائیاں ان عناصر کے اس ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں جو ترقیاتی عمل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں اور عوام میں احساسِ محرومی کو ہوا دیتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ ریاست مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی کوئی پالیسی نہیں رکھتی اور قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ مسلح گرہوں کے پاس صرف ہتھیار ڈالنے اور قانون کے سامنے سرینڈر کرنے کا اختیار موجود ہے، بصورت دیگر سکیورٹی فورسز ان کا صفایا جاری رکھیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک عسکریت پسندی سے متعلق واقعات میں 819 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں فوج کے 303 اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں جنہوں نے جان سے ہاتھ دھوئے۔ دوسری طرف، سکیورٹی فورسز نے اسی عرصے کے دوران مجموعی طور پر 2,084 مصدقہمسلح افراد کو ہلاک کیا۔ فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے اور ہر روز تقریباً 10 مسلح افراد مارے گئے۔ اس دوران 28 خودکش حملے بھی ہوئے، اور ٹانک و کراچی میں ہونے والے بعض حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہیں۔ انہوں نے "ہارڈ سٹیٹ” کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا غلط مطلب لیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق سختی سے چلائے جائیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ فوج ریاست چلا رہی ہے، بلکہ ریاستی ادارے اپنے آئینی دائرۂ کار میں کام کرتے ہیں۔ پاکستان ہی تمام شہریوں کی ’پہلی اور آخری پہچان‘ ہے اور قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کے گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق بیان پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وزیر داخلہ کی ذاتی رائے ہے جس پر وہ تبصرہ نہیں کریں گے۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ گڈ گورننس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم موضوع ہے اور ملک کے متعدد مسائل کا حل بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے مثال دی کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً چار سے پانچ کروڑ تھی اور چار صوبے تھے، جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ گڈ گورننس کیسے لانی ہے اور نئے صوبوں کا قیام کرنا ہے یا نہیں، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں، سیاست دانوں اور منتخب نمائندوں نے جمہوری عمل کے ذریعے کرنا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات، مدارس اصلاحات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات بھی بہتر حکمرانی کا حصہ ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بیان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسے بیانات کو حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کارگل سمیت مختلف محاذوں پر جانیں قربان کرنے والے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا مناسب نہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ بعض اوقات ایسی گفتگو غیر ارادی طور پر انڈین بیانیے کو تقویت دیتی ہے، جس سے ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ فوجی جوانوں اور عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے کے بجائے قومی معاملات پر واضح اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا جانا چاہیے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article