بلوچستان کے مانگی ڈیم، زیارت واقعہ میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین اور آل پارٹیز کے رہنماؤں کا گزشتہ کئی روز سے جاری احتجاجی دھرنا حکومت بلوچستان سے کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوگیا۔ دونوں فریقین کے درمیان مطالبات سے متعلق تحریری معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد شہداء کی تدفین کا فیصلہ کیا گیا۔
مظاہرین کئی روز سے کوئٹہ میں مانگی ڈیم، زیارت واقعہ میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی میتوں کے ہمراہ دھرنا دیے ہوئے تھے۔ یہ اہلکار مانگی ڈیم حملے کے دوران اغوا کیے گئے تھے جنہیں بعد ازاں مبینہ طور پرایک مذہبی شدت پسند تنظیم نے قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
معاہدے کے مطابق بلوچستان حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے آج ہی بلوچستان ہائی کورٹ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کرے گی، جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی، بھتہ خوری، مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں آئندہ ہفتے امن و امان سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز، سکیورٹی اداروں، سیاسی جماعتوں اور شہداء کے لواحقین پر مشتمل ان کیمرہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
تحریری معاہدے میں لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے 15 روز کے اندر آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو فیصلہ بلوچستان اسمبلی میں رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت مانگی ڈیم واقعہ سمیت تمام ہلاک افراد بشمول سویلین متاثرین، کو مروجہ پالیسی کے مطابق شہید قرار دے کر ان کے لواحقین کو معاوضہ، بچوں کی تعلیم، کفالت اور دیگر مراعات فراہم کی جائیں گی، جبکہ شہداء کے نام پر مختلف سرکاری عمارتیں اور کوئلہ پھاٹک چوک کو "شہداء زیارت چوک” سے منسوب کیا جائے گا۔
مذاکرات کی کامیابی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ کئی روز کے دھرنے کے بعد آج خوشی کا دن ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوئے۔ اب اصل امتحان تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت کا ہے کہ معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوگا۔
معاہدے پر حکومتی وفد کی جانب سے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے دستخط کیے، جبکہ لواحقین اور آل پارٹیز کے نمائندوں نے بھی معاہدے کی توثیق کی۔