بلوچستان کے زیارت کے علاقے مانگی میں ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن سے مسلح افراد کے ہاتھوں اغواءکے بعد ہلاک کیے جانے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور زیارت کے عمائدین کا دھرنا کوئٹہ کے کوئل پھاٹک کے مقا م پر9 ویں روز بھی جاری ہے ۔
اس دوران شہریوں ، سیاسی رہنماؤں سمیت دیگر افراد کی بڑی تعداد نے دھرنے میں شرکت کر کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا ۔
جمعرات کو حکومت اور دھرنا کمیٹی ، لواحقین کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور منعقد ہوا۔جس میں حکومت کی جانب سے وزراء ضیاءاللہ لانگو، بخت محمد کاکڑ، سلیم کھوسہ، عاصم کرد گیلو ،سینیٹر منظور کاکڑ،بلال کاکڑ جبکہ دھرنا کمیٹی کے جانب سے عبدالرحیم زیارتوال، اصغر خان اچکزئی، آغاحسن بلوچ، مولانا قادر لونی سمیت دیگر نے شرکت کی ۔
حکومتی وفد اور سانحہ زیارت کے لواحقین اور دھرناکمیٹی میں مذاکرات اور بات چیت کے دوران پانچ نکات کو حتمی شکل دی گئی جس کے بعد حکومتی کمیٹی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات اور مشارت کے لیے روانہ ہوگئی ۔
دوسری جانب زیارت میں واقعہ کے خلاف آج جمعہ کو بلوچستان بھر میں دھرنا کمیٹی اور سیاسی جماعتوںکی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی ہے ۔تاجروں ،سیاسی جماعتوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے کاروبار آج بند رکھیں ۔