حال ہی میں، میں ایک سنگت (دوست) کے ہاں ٹھہرا تھا۔ سفر کے باعث اور شام کے وقت پہنچنے کی وجہ سے شدید تھکاوٹ تھی، اس لیے میں نے آرام کیا اور کسی قسم کی بھاگ دوڑ نہیں کی۔ دوسرے دن جب ہم صبح سنگتوں سے ملنے جا رہے تھے اور بس گھر سے نکلنے ہی والے تھے کہ سنگت نے مجھ سے کہا، "وہ جو چادر ٹنگی ہوئی ہے، مجھے پکڑانا۔” میں نے چادر اٹھائی تو وہ کافی موٹی تھی۔ میں نے حیرت سے پوچھا، "اتنے موٹے ٹیکسچر کی چادر اور وہ بھی اس تپتی گرمی میں؟” اس نے مسکرا کر جواب دیا، ”میں اسے اوڑھ تو نہیں رہا، صرف کندھے پر رکھ رہا ہوں۔ اور ویسے بھی، اس میں اور چائنا ایڈ (China Aid) میں ملنے والے کمبلوں میں کوئی فرق نہیں ہے، وہ بھی تھرڈ کلاس تھے اور یہ بھی۔ گرمی محسوس نہیں ہوگی۔“
"چائنا ایڈ” کا لفظ سنتے ہی سنہ 2013 کا زلزلہ میرے سامنے گویا پھر سے رونما ہو گیا، جس نے مشکے، آواران اور کولواہ سے لے کر ہیرونک تک کے تمام علاقوں کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چائنا ایڈ کے کمبلوں اور زلزلے میں کیا تعلق ہے؟ شاید ان میں کوئی تعلق ہو، یا پھر نہ ہو، لیکن مجھے وہ یادیں اب بھی ازبر ہیں جنہیں بلوچوں نے اپنے ذہنوں میں سنبھال کر رکھا ہے۔ آج بھی زلزلہ زدہ افراد اس وقت کے صدمے اور ریاستی درندگی کو یاد کرتے ہیں۔
قدرتی آفات کے وقت پاکستان نے پوری طرح ایک نوآبادیاتی ریاست کا رویہ اختیار کیا— اور وہ جو ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ آفت زدہ بلوچوں کو قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ نہ صرف اقوامِ متحدہ کی امداد کو مسترد کیا گیا (جس کی بعد میں محدود پیمانے پر اجازت ملی)، بلکہ بلوچ انسانی حقوق کی تنظیموں، ماس آرگنائزیشنز، قوم پرست جماعتوں اور طلبا تنظیموں کے امدادی کیمپ بھی اکھاڑ دیے گئے اور راشن و امدادی مواد کو فوجی کیمپوں میں منتقل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج کی نقل و حمل اور سپلائی چین کو بلوچ آزادی پسندوں کا سامنا تھا، جو اس چین کو شدید نقصان پہنچا رہے تھے۔ ایف سی (FC) کا اصرار تھا کہ وہ خود امداد تقسیم کریں گے، لیکن فوجی میجر سمریز سالک نے واضح کر دیا تھا کہ ان کے پیرا ملٹری ٹروپس کو آزادی پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر میجر کے ہیلی کاپٹروں پر میزائل داغے جا سکتے ہیں، تو ایف سی کس بنا پر یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ وہ امداد تقسیم کرے گی، جبکہ خطے میں اس کا اپنا وجود خطرے میں تھا؟
دیگر نوآبادیاتی ریاستوں کے طرز پر پاکستان نے بھی اپنی چال چلی اور پورے بلوچستان، بالخصوص آفت زدہ علاقوں میں فوجی جارحیت شروع کر دیے۔ اسکولوں کو ملٹری کیمپوں میں تبدیل کر دیا گیا اور آفت کے صدمے سے دوچار لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ مشکے بھر کے گھروں پر مارٹر شیل داغے گئے۔ اس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے دعویٰ کیا کہ فوج کے ہزاروں اہلکار بلوچوں کی مدد کو پہنچ گئے ہیں؛ بظاہر وہ ریلیف اور امدادی کیمپ تھے، لیکن ان کے پیچھے فوجی جارحیت کے ہولناک منصوبے چھپے تھے۔
اس سارے عمل میں کردار صرف فوج کا ہی نہیں تھا، بلکہ مقامی کاسہ لیسوں (جنہیں مقامی بلوچی بولی میں ”کاسگ چٹ“ کہتے ہیں) کا بھی تھا۔ نام نہاد نیشنل پارٹی (جو خود کو سینٹر لیفٹ اور ڈیموکریٹک کہتی ہے) کے سربراہ ڈاکٹر مالک اور ان کے چیلے آواران پہنچ گئے، لیکن ان سب کے باوجود بلوچ آفت زدہ لوگوں کے حصے میں کیا آیا؟ وہی تھرڈ کلاس ‘چائنا ایڈ’ کے کمبل، جو چین کی سامراجی حکمتِ عملی کا ایک حصہ تھے۔
گھر سے نکلتے ہی میرے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھر آئی، لیکن خیر، نوآبادیات کی دی ہوئی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں۔ ویسے بھی، یہ یادیں جتنی چبھتی ہیں، انسان کو آزادی کی طرف اتنی ہی شدت سے مائل کرتی ہیں۔
***