پشتون بلوچ عوام نے فیصلہ کرلیا تو بلوچستان میں کوئی بھی حکومت نہیں کر پائے گا،اپوزیشن قیادت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے تحریک کا آغاز کررہے ہیں۔ اپوزیشن کی تمام قیادت کوئٹہ جاکر محتاط انداز میں حکمرانوں کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ سانحہ زیارت پر ذمہ دار استعفیٰ دیں یا فوری طور پر برطرف کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ عوام نے فیصلہ کرلیا تو بلوچستان میں کوئی بھی حکومت نہیں کر پائے گا۔ کشمیر اور بلوچستان میں اپنے بچوں کو گولی مارو گے تو اس کا نتیجہ بربادی ہے۔

انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے حکمرانوں نے بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو عوامی طاقت سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کریں گے، نوجوانوں کو مزید مت اکساؤ۔

اس موقع پر سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفی نواز کھوکھر، ساجد ترین ایڈووکیٹ، لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ، سید زین شاہ، ملک نصیر شاہوانی، داؤد شاہ کاکڑ، محمد زبیر، اخونزادہ حسین، احمد نواز بلوچ اور دیگر موجودتھے۔

پریس کانفرنس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 4 مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت مستعفی ہو، دہشتگردی، بلوچستان، آزاد کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، بریفنگ دی جائے، آزاد کشمیر میں انتخابات کو ملتوی کیا جائے، مذاکرات کیے جائیں، عمران خان، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، علی وزیر سمیت تمام سیاسی اسیران رہا کیے جائیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article