ایران میں 90 فوجی اہداف پر امریکی بمباری، مغربی بلوچستان نشانے پر رہی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹھ جولائی کو ایران کے خلاف کارروائی میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ ایران میں فضائی دفاع کے نظام، ساحلی نگرانی کے وسائل، میزائلز اور ڈرونز کی ذخیرہ گاہوں، بحری صلاحیتوں اور ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے۔

امریکی کارروائی کا یہ تازہ دائرہ کار منگل کے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

بدھ کی شب دیر گئے ہونے والے ان وسیع امریکی حملوں میں مغربی بلوچستان کے ساحلی اور اندرونی اضلاع کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، جہاں بھاری جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق چابہار اور کنارک میں کم از کم 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد چابہار شہر کے ایک بڑے حصے میں بجلی منقطع ہو گئی۔

تسنیم نیوز کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے چابہار میں پاسدارانِ انقلابِ (IRGC) کی بحریہ کے اڈے پر بمباری کی۔

آئی آر آئی بی کے مطابق چابہار بندرگاہ پر امریکی حملے کے بعد ان میزائلوں کے ٹکڑے شہر کے امام علی ہسپتال سے جا ٹکرائے جس سے ہسپتال کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ چابہار بندرگاہ کی شہید بہشتی اور کلانتری گھاٹ کے علاوہ بحری ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر کے ہوائی اڈے کی عمارت اور رن وے میں دھماکے کے بعد فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ خبر رساں ادارے ارنا نے سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر اور ایرانشہر کے گورنر کے حوالے سے ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق کی ہے، جہاں واقعے کے دوران آگ بجھانے والے عملے کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

اس سے قبل زاہدان پر حملے سے متعلق غیر سرکاری اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، تاہم فوجی حکام نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے زاہدان کے فوجی مراکز پر کسی بھی حملے یا دھماکے کی تردید کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بندرعباس کے اطراف فضائی حدود میں دشمن کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا تھا، جہاں مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر بندرعباس اور سیریک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دوسری جانب، جنوبی صوبے بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم فوجی اڈے پر بھی شدید حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران پر جاری حالیہ حملے منگل کو کیے گئے حملوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور بڑے پیمانے پر ہیں۔

سینٹ کام کے مطابق منگل کو کی گئی کارروائی کے دوران ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیاں، فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار تنصیبات اور بحری جہاز شکن میزائل صلاحیتیں شامل تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کا جواب ہیں۔

سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ امریکی افواج بدستور چوکس ہیں اور اپنے کمانڈر اِن چیف کی ہدایات پر عمل در آمد کے لیے تیار ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article