بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی اور قلعہ عبداللہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں 8 افرا دہلاک ہوگئے۔
ڈیرہ بگٹی سے علاقے ہیں کہ زین کوہ درینجن میں فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔
کہا جارہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے زین کوہ درینجن میں رقم کے تنازع پر 2 گروہوں کے درمیان فائرنگ ہوگئی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک گروپ کے باپ اور بیٹا جبکہ دوسرے گروپ کے 2 بھائی شامل ہیں۔
دوسری جانب قلعہ عبداللہ میں فائرنگ سے 4 افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ کلی بدوان میں فائرنگ کا واقعہ آج علی الصبح پیش آیاجس سے 4 افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کمانڈر عبیداللہ، ایمل، شاہد اور ضیاءالرحمان شامل ہیں۔
واقعے کے بعد مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
کہا جارہا ہے کہ مذکورہ کمانڈر عبیداللہ کا کاکوزئی قبیلے کیساتھ دشمنی چلی آرہی تھی جس میں کاکوزئی قبیلہ کے 5 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سوشل میڈیا پر بھی مخالف قبیلے کے ایک مقتول کے بھائی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی کی ہے اور ان کے مزید دیگر افراد کا خون بہا بھی رہتا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
کمانڈر عبیداللہ کے اہلِ خانہ نے اپنے چار افراد کے قتل کے خلاف احتجاجاً کوئٹہ چمن شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہے۔
لواحقین کا دعویٰ ہے کہ قتل کی واردات میں ملا کاکوزئی کے ہمراہ سابق افغان آرمی سے وابستہ افراد سمیت ایف سی، اے ٹی ایف اور پولیس کی وردیوں میں ملبوس افراد شامل تھے۔
اہلِ خانہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔