انسان اس کائنات کا غالباً واحد مخلوق ہے جو نہ صرف جُھنڈ میں رہتا ہے بلکہ منظم جُھنڈ بنانے، اسے اپنے ہی طے کردہ اصول و قوانین کے تحت چلانے، مسلسل بہتر کرنے اور اس میں رہنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انسان کا یہی اجتماعی گُر ہی اسے ہزاروں سالہ زندگی بخشنے کا ایک سبب ہے۔ اسی کی ہی بدولت انسان نے اپنی نہ صرف نسل بچائے رکھی ہے بلکہ قدیم اشتراکی سماج کے انسان سے لے کر آج کے جدید ترین سائنس و ٹیکنالوجی سے لیس سرمایہ دارانہ نظام تک انسان نے اسی بنیادی خاصیت کی بدولت اپنی بقا کو ممکن بنا پایا ہے اور فطرت پر کسی حد تک قابو پاکر اپنی حیات کو مسلسل نئی جدتیں عطا کر رہا ہے، اور یہ کائناتی تسخیر اجتماعیت اشتراک اور ”نظم“ کے بغیر نا ممکن ہے۔
اور پھر آج کے جدید دور میں جہاں انسان نے کروڑ ہا کروڑ کامیابیاں حاصل کی ہیں مُعجزات کر دکھائے ہیں، وہیں پر پچھلے زمانوں کے برعکس آج کے انسان کو ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ بقائی خطرات کا بھی سامنا کر پڑ رہا ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ تمام تر مُشکلات و خطرات انسانیت کے ایک مخصوص بالائی حکمران طبقے کے ہی پیدا کردہ ہیں۔ ماحولیاتی تغیر و تبدل، قبضہ گیریت، نسل کُشی، جبر و بربریت، جنگ مسلسل ، استحصال، بھوک و افلاس وغیرہ وغیرہ لیکن انسان پھر وہی انسان ہے، اپنی بقا کو بارہا ممکن بنانے والا انسان، خوراک و علاج کا سامان کرنے والا انسان، تہذیب بنانے والا انسان، اپنے وطن سے درآمدی قبضہ گیری لشکر بھگانے والا انسان اور سب سے بڑھ کر اہم اور ضروری خاصیت کے ساتھ ”تنظیم“ بنانے والا انسان۔
میں حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ انسان نے تنظیم بنانا تاریخ کے کس موڑ پر اور کب سیکھا، یا اس کی ضرورت اسے کب محسوس ہوئی، آیا وہ جنگلوں میں درختوں کی شاخوں پر جھولتے ہوئے یہ سیکھ گیا یا پھر چوپائے کی کیفیت سے نکل کر دوپائے ہوتے ہوئے ہاتھوں کو آزاد کرکے شعور کی جانب معیاری چھلانگ لگا کر یہ دائمی تخلیق کر دی۔
بہرحال جیسے بھی کیا ہمارے پُرکھوں نے جینیاتی وراثت کے تحت ہمیں ایک بقائی اور دفاعی ہتھیار تنظیم سازی کے گُر کی صورت میں عطا کر دیا۔ آج کا انسان پُرکھوں کے عطا کردہ اس نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے، جہاں بھی انسان کو اجتماعی و اکثریتی طورپر قومی، طبقاتی، شناختی، ثقافتی، حیاتیاتی و ماحولیاتی خطرہ درپیش ہو وہ دفاعی و مزاحمتی تنظیم بناتا ہے اور اسی کے گرد اپنی بقا کو ممکن بناتے ہوئے خطرے پر قابو پا لیتا ہے۔ اور یہ والا عظیم انسانی بقا کا پیغمبرانہ کام مجھ جیسے ایرے غیرے کے ہاتھوں ہر گز نہیں ہو پاتا، اس کام کےلیے ایک ”مکمل انسان“ کی تمام تر خاصیتیں درکار ہوتی ہیں۔ جیسا کہ علم ،حکمت، باشعور، مدبر، سوبر، بہادر،عاجز، دانا، پر خلوص، وغیرہ وغیرہ۔ اگر یہ تمام تر انسانی خاصیتیں کسی شخص میں ہوں اور اس کا قوم، طبقہ، وطن خطرے میں آجائے تو پھر وہ تنظیم بناتا ہے، تنظیم کاری کرتا ہے۔ وہ امیلکار کیبرال،کوامے نکرومہ، لینن،ھوچی منہ، ماؤ ، شیخ یاسین، عرفات، کنفانی، جارج حباش، اوکلان، چندر شیخر، بھگت سنگھ، گاندھی،کلپنا دتا، دُرگا بھابھی، باچا خان، ولی خان، پلیجو، جی ایم سید، عزیز کرد، عزیز مگسی، حمید بلوچ، فدا احمد، زاکر جان،ڈاکٹر منان، ثنا سنگت، بانک کریمہ، غلام محمد، شیر محمد اور اور ڈاکٹر دین محمد کی صورت میں مکمل انسان بن کر مسیحا کا روپ دھار کر تنظیم بناتا، تنظیم سازی کرتا ہوا انسانیت کا محسن اور اپنے قوم و وطن کا رکھوالا بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر دین محمد کا شُمار بھی انسانیت کے ایسے ہی مُحسنوں میں ہوتا ہے، اس نے جب دیکھا کہ بلوچ وطن پر غیر کا یلغار ہے، درآمدی لشکر بلوچ سے سرزمین، سیاست، شناخت،معیار، اختیار، قدار اور نمائندگی چھیننے کے ساتھ ساتھ ساحل، وسائل، حتٰی کہ بلوچ کا اپنا وجود چھین رہا ہے تو اس نے فقط انقلابی بن کر بیٹھنے اور ہمدردری، تجزیہ کاری و مذمت کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ اس بڑے مرض کا مداوا کرنے کا پکا ارادہ کرکے آگے بڑھ گیا۔ اور یہ نیک انسان جانتا تھا اس مرض کا دارو درمان بلوچ کو شعوری طور پر اس کے وطن کے گرد ”منظم“ کرنے میں ہے۔
تو پھر ڈاکٹر جان نے کمر باندھ لی، وہ تنظیم کی اہمیت سے واقف تھا کہ کسی بھی قوم و طبقے اور ان کے وطن پر جب بھی آفت پڑتی ہے فقط غصہ، نفرت، قوم سے ہمدردی کافی نہیں ہوتی، وہ جانتا تھا کہ آپ لاکھ انقلاب انقلاب کریں، آپ کے پاس جدید ترین نظریات اور فلسفہ ہو، آپ لاکھ حق سچ کی صدا لگائیں، آپ جبر اور ظلم و ستم پر چیخیں چلائیں ظالم جابر کو فرق نہیں پڑتا۔ ہاں اسے اُس وقت فرق پڑتا ہے جب اُس مقبوضہ وطن کے مظلوم قوم کے پاس ایک جدید سائنسی نظریات سے لیس ایک طاقتور تنظیم ہو، وہ قوم و طبقہ اس تنظیم کے گرد منظم ہو تب جا کر وہ قبضہ گیر و ظالم حکمران طبقہ پریشان ہوتا ہے، اس کے جبر و بربریت سے بھرپور مشینوں کی تیزی و رفتار سست پڑنے لگتی ہے۔ ایک انقلابی و مزاحمتی تنظیم ہی قبضہ گیر کے ہاتھ مروڑ سکتا ہے، اسے پیروں سے لَنگ کر سکتا ہے، اس کی آنکھ پھوڑ کر اسے کانا بنا سکتا ہے اور آخر کار وہ انقلابی ”تنظیم“ ہی اس کا گَلا گھونٹ کر اسے مار کر اس کی بے روح مُردار و پلید جسم کو اپنے سرزمین سے باہر پھینک سکتا ہے۔
ڈاکٹر دین جان یہ بھی جانتا تھا کہ قبضہ گیر کو بھگانے کےلیے تنظیم سازی کا کام بڑا اور پُر خطر کام ہے، وہ جانتا تھا کہ تنظیم کاری کے لوازمات کیا کیا ہیں، سب سے بڑھ کر وہ یہ جانتا تھا کہ تنظیم اور تنظیم کاری کا پہلا اور اٹل کائناتی اصول یہ ہے کہ اس نیک عظیم انسانی عمل میں ملوث ہونے کےلیے اپنی زات کو سب سے پہلے ہی فنا کرنا پڑتا ہے۔ علم و شعور، تاریخ و فلسفہ، حکمت و دانائی، عاجزی و انکساری کے مشترکہ ہتھیار سے مسلح ہونا پڑتا ہے، گھر سے در بہ در، بچوں سے دور، آسائشوں سے پَرے ہونا پڑتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ عام عوام کو قومی شعور دینے اور منظم کرنے کےلیے اپنے جڑ کی جانب لوٹنا یعنی گفتگو، طرز، رویے میں عام عوامی ہونا پڑتا ہے۔ اور سب سے خطرناک بات جس سے ڈاکٹر جان جی و جان سے شعوری طور پر واقف تھا کہ ایک گوریلا سرمچار قومی کام میں جب ملوث ہوتا ہے تو اسے کم از کم اپنی دفاع کا تو اختیار ہوتا ہے، لیکن بلوچ سیاسی کارکن کے پاس دفاع کا ایسا کوئی سہارا اور اختیار نہیں ہوتا۔ ریاست اسے کبھی بھی کسی بھی وقت کہیں سے اٹھا کر اغوا کرکے زندگی بھر کےلیے ٹارچر سیل میں پھینک سکتا ہے، حتیٰ کہ وطن کے کسی ویرانے میں آپ کی مسخ شدہ لاش تک پھینکی جا سکتی ہے۔
ان سب حقائق و مشکلات سے آشنا ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر جان نے قومی نجات کےلیے تنظیم سازی کے بہت بڑے کام میں ہاتھ ڈال دیا، پھر کیا تھا، بلوچ وطن تھا ڈاکٹر جان تھا، بلوچ عام عوام تھی، بلوچ شوان تھا، اس کا گدان تھا اور اپنا ڈاکٹر جان تھا۔ ڈاکٹر دین جان ہر ہر قصبہ دیہات گیا، وہ کولواہ میں قومی غلامی کے خلاف شعور دیتا رہا، جھاؤ میں وطن کا عشق بانٹتا رہا، سوردو میں روشنی پھیلاتا رہا، اسپلنجی میں قابض کا پردہ چاک کرتا رہا، وڈھ میں بلوچ کا دفاعی جال بچھاتا رہا، رودینجو میں وطن پرستی کے بیج بوتا رہا، گوارگو میں نظریہ و فلسفہ پڑھاتا رہا، اورناچ میں شعور و آگہی پھیلاتا رہا، خضدار میں قومی پیغمبری کا فرض نبھاتا رہا، الغرض ڈاکٹر جان جہاں بھی گیا وہ بلوچ وطن کے خلاف بلوچ بزگر و شوان لَس بلوچ کو قومی نجات دھندہ تنظیم ”بلوچ نیشنل موومنٹ“ کے گرد منظم کرتا رہا۔
وطن پرستی کا اتنا بڑا قبضہ مخالف نیک انسانی کام قبضہ گیر کو کہاں ہضم ہو سکتا تھا، پھر تاریخ میں کس قبضہ گیر نے انسانی بقا کا یہ نیک کام برداشت کیا ہے۔ قبضہ گیر چاہے برطانوی ہو کہ پرتگیزی، اسرائیلی ہو کہ فرانسیسی، ہندوستانی ہو کہ پاکستانی، قبضہ گیر بس قبضہ گیر ہوتا ہے وہ بدمست ہاتھی ہوتا ہے، وہ فقط استحصال جانتا ہے، وہ غلام بنانا اور غلام پالنا جانتا ہے، توہین و تذلیل کرنا جانتا ہے، قتل کرنا اور اغوا کرنا جانتا ہے۔ بلوچ وطن پر قابض قوت نے بھی وہی کیا۔ اس نے ہزاروں بلوچوں کی طرح اس بلوچ پیغمبر ڈاکٹر دین جان کو بھی اورناچ کے علاقے سے رات کے اندھیرے میں اغوا کیا اور اپنے انسان کُش ٹارچر سیل میں پھینک دیا۔
آج بلوچ قومی تحریک جس مقام و مرتبے پر ہے وہ ڈاکٹر دین جان جیسے ہزاروں بلوچ جہد کاروں کی مرہون منت ہے۔ جنہوں نے قابض کے زندانوں اور ان میں موجود وحشی درندہ صفت اذیت دینے والوں کے سامنے مصالحت اور رحم کی بھیک نہیں مانگی۔ وہ جب تک زندہ تھے وطن کے چپے چپے پر موجود ہر ہر بلوچ کو منظم کرنے کی کوشش کی، انہیں انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت و اشتراکیت کی جانب لے جانے کی کوشش کی، انہیں منتشری سے بچا کر منظم کرنے کی کوشش کی اور بلوچ کو شکست خوردہ ہونے سے بچایا، اور اب جب وہ زندانوں میں قید ہیں تب بھی وہ مصالحت سے ماورا ہیں، وہی جنگ وہ دشمن کے زندانوں میں بھی لڑ رہے ہیں اور دشمن کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بالخصوص بلوچ نوجوانوں کو اس بات پر دیہان دینا ہوگا کہ آیا ہم ڈاکٹر دین جان سمیت ان سیاسی جہدکاروں کے ساتھ انصاف کر پا رہے ہیں جنہوں اپنا ایک ایک دن ایک ایک لمحہ بلوچ دشمن کے خلاف بلوچ کو منظم کرنے میں لگایا۔ یا پھر ہم فقط فخر، ہمدردی اور افسوس کے دائرے میں مسلسل غوطہ خوری کا شکار ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم فقط بلوچ ہونے کا دعویدار ٹھہرے ہیں اور اس پر بھی نازاں ہیں۔ فقط بلوچ تو ایک عام مگر بے شعور و بے تنظیم انسان بھی ہے جو کہ وطن کا باشندہ ہے، بلوچ تو پارلیمانی جماعتوں کی قیادتیں بھی ہیں جو قوم پرستی کی آڑ میں بلوچ وطن کے بدترین سودا گر ہیں، ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے بھی تو بلوچ ہیں، بلوچ تو وہ جنگی منافع خور بھی ہیں جتنا بلوچ کا خون بہتا ہے ان کی دولت و ثروت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بلوچ تو سردار بھی ہیں جو سَگِ سرکار ہیں۔
اگر ہم فقط خوشی اور افسوس کی رسی میں لٹکتے ہیں تو ہم صرف بلوچ تو ہو سکتے ہیں مگر ذمہ دار بلوچ ہرگز نہیں کہلائے جا سکتے۔ فقط بلوچ ہونا فخر کی بات نہیں ہو سکتا، ”ذمہ دار بلوچ“ ہونا ہی فخر کا باعث بن سکتا ہے۔ اور ذمہ دار بلوچ پر ہی تاریخ، قوم، وطن بلکہ پوری انسانیت فخر کرتا ہے کیونکہ ایک ذمہ دار بلوچ ہی بلوچ سمیت پورے انسانیت کا فخریہ میراث ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ عبداللہ اوکلان، ڈاکٹر منان، غسان کنفانی، چندر شیخر، زاکر مجید، شہید حمید، ڈاکٹر دین جان و دیگر عالمی انقلابی رہنما تمام تر انسانیت کے مُحسن و ہیرو ہیں۔
اور یہاں ذمہ دار بلوچ سے مُراد ہر وہ بلوچ مزاحمتکار و سیاسی جہدکار ہے جو تاسف و فخر کے بے سود احساس سے نکل کر عملی طور پر باقاعدہ تنظیم و تنظیم کاری جیسے انسانی و انقلابی عمل میں ملوث ہو چکا ہو۔ جیسے کہ ”آجوئی ءِ بندیگ“ ڈاکٹر دین جان سمیت ہزاروں وہ سیاسی جہد کار تھے جن میں ھزاروں آج یا تو شہید کیے جا چکے ہیں یا پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا چکی ہیں۔ مگر قومی تنظیم و پارٹی کی صورت میں وہ آج بھی بلوچ قبضہ گیر کے خلاف جدوجہد و مزاحمت کر رہے ہیں۔ آج جب دشمن سکون کی نینند کھو چکا ہے، خوف و بے سروسامانی کے عالم میں ہے، دفاعی پوزیشن اختیار کر کے اپنے آخری دن گِن رہا ہے یہ سب معجزات اور کرامات ڈاکٹر دین جان جیسے ہزاروں ”ذمہ دار بلوچ“ سیاسی جہد کاروں کی مرہونِ منت ہیں۔
ہمیں بھی ان سیاسی اسیران کی طرح، وطن کی آزادی کے جہد کاروں کی طرح تنظیم و پارٹی اور تنظیم کاری کے انقلابی عمل میں خود کو ملوث کرنا ہوگا، عام بلوچ کو آگہی و شعور دینے، دشمن کے خلاف جدوجہد کو مزید بڑھانے اور بلوچ کو فتح مند و سرسوب کرنے کےلیے بلوچ نیشنل موومنٹ جیسے کسی انقلابی تنظیم کا حصہ بننا ہوگا اور ذمہ دار بلوچ بن کر ڈاکٹر دین جان جیسے ہزاروں سیاسی جہدکاروں کی طرح تنظیم و تنظیم کاری کے عمل میں ملوث ہونا ہوگا۔ تب جا کر بلوچ دشمن کے خلاف ہم کامیاب و فتحیاب ہو سکیں گے، تب جا کر ہم بلوچ وطن پر بلوچ کا اختیار لے سکیں گے، تب جا کر ہم برابر انسان ہوں گے تب ہی ہم،آزادی برابری اور انصاف پر مبنی ایک باوقار بلوچ سماج تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گے۔