منتظر بیٹی | داد جان بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں صرف خبریں ہی لاپتہ نہیں ہوتیں بلکہ خبر دینے والے بھی خود خبر بن جاتے ہیں۔ یہاں سچ لکھنا، سوال اٹھانا اور غیر جانب دار صحافت کرنا اکثر اپنی جان، آزادی اور خاندان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ متعدد صحافیوں کو دھمکیوں ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی اپنی جان سے بھی جاتے ہیں بعض اوقات ان کے اہلِ خانہ کو بھی مختلف طریقوں سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ آزادانہ رپورٹنگ کا راستہ روکا جا سکے۔

انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافت کے حوالے سے پاکستان پر گزشتہ کئی برسوں سے مختلف بین الاقوامی اداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بعض حصوں میں مقامی صحافیوں کو انتہائی مشکل حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں آزادانہ رپورٹنگ نہ صرف ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری بلکہ ایک بڑی آزمائش بھی بن جاتی ہے۔

آج سے ڈیڑھ دہائی قبل، 28 جون کی رات، ضلع خضدار کے علاقے اورناچ سے ڈاکٹر دین محمد کو دوران ڈیوٹی رات کو ہسپتال سے ایف سی اور آئی ایس آئی نے گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ اس واقعے کے بعد وہ آج تک واپس نہیں آئے۔ ڈاکٹر دین محمد ایک قوم پرست سیاسی جماعت سے وابستہ تھے اور ان کے قریبی افراد کا مؤقف ہے کہ وہ بلوچ عوام کے سیاسی اور قومی حقوق کی بات کرتے تھے۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ اگر ان پر کوئی الزام تھا تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا تاکہ شفاف عدالتی کارروائی کے ذریعے حقیقت سامنے آتی۔

ڈاکٹر دین محمد کی گمشدگی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے خاندان کا مسلسل دکھ ہے جو ڈیڑھ دہائی سے امید اور انتظار کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔ ان کی بیٹی سمی اور مہلب نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے ملک بھر میں احتجاج، لانگ مارچ، دھرنے اور پریس کلبوں کے باہر مظاہرے کیے۔ وہ ہزاروں میل کا سفر طے کر چکے ہیں، لیکن آج بھی ان کے سوال کا جواب نہیں ملا کہ ان کے والد کہاں ہیں۔

کسی بھی خاندان کے لیے اپنے پیارے کی غیر یقینی گمشدگی ایک ایسا کرب ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جب انہیں یہ خبر ہی نہ ہو کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ایک نئی اذیت بن جاتا ہے۔ یہی کیفیت صرف ڈاکٹر دین محمد کے اہلِ خانہ ہی نہیں بلکہ ان تمام خاندانوں کی ہے جو برسوں سے اپنے لاپتہ عزیزوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے، صحافی برادری وکلاء، سول سوسائٹی اور ہر وہ شخص جو انصاف، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے کہ وہ سمی مہلب اور تمام متاثرہ خاندانوں کی آواز بنے۔ اگر کسی شخص پر کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے اپنے کنڑولڈ نیو کالونیل آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرکے اپنی مرضی کا سزا دیں تاکہ انصاف کا تقاضا ان کے اپنی Totalitarian سسٹم کے مطابق پورا ہوا ان کی اپنی تشریح کے مطابق ۔ لیکن اگر کسی کو برسوں تک بغیر عدالتی کارروائی کے لاپتہ رکھا جائے تو اس کے نتیجے میں صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان مسلسل ذہنی سماجی اور جذباتی اذیت کا شکار رہتا ہے۔

سمی کا مطالبہ نہایت سادہ ہے۔ وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ اگر ان کے والد نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں کلائنٹ اسٹیٹ کے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، اور انہیں اپنے خاندان سے ملنے دیا جائے۔ اگرچہ انصاف کی بنیاد شفاف قانونی عمل ہے، اور یہی اصول ہر شہری کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں تو انصاف کا قتل سرعام کیا جاتاہے اور وہ بھی بڑی بے شرمی کے ساتھ۔

ڈاکٹر دین محمد کی گمشدگی کو آج ڈیڑھ دہائی گزر چکی ہے مگر ان کے اہلِ خانہ کی امید آج بھی زندہ ہے۔ شاید ایک دن ایسا آئے جب انتظار ختم ہو سوالوں کو جواب ملیں اور ہر خاندان کو اپنے پیاروں کے بارے میں سچ جاننے اور انصاف حاصل کرنے کا حق میسر آئے۔

ڈاکٹر دین محمد کا معاملہ محض ایک فرد کی گمشدگی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سیاسی و عسکری نظام کا عکاس ہے جسے ناقدین ایک ٹوٹلٹیرین اور نیوکالونیل کلائنٹ اسٹیٹ قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا انصاف قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق واقعی ممکن ہیں؟ کیا نئی سامراجی طاقتیں کبھی اپنے اسٹریٹجک اتحادیوں پر اتنا دباؤ ڈالیں گی کہ وہ جبری گمشدگیوں، انصاف کے قتل اور انسانی حقوق کی پامالی سے باز آجائیں؟

جب تک اس ریاستی ڈھانچے میں طاقت کو قانون پر فوقیت حاصل رہے گی اور محکوم و مظلوم قومیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہیں گی تب تک یہ کرب ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے بھی اکثر اسی وقت متحرک ہوتے ہیں جب ان کے اپنے سیاسی عسکری یا معاشی مفادات متاثر ہوں۔ ورنہ انصاف، قانون کی بالادستی انسانی حقوق اور اقوام کے وقار کے بلند بانگ دعوے محض بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔ شاید یہی اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

***

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article