بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے تنظیم کی اسیر قیادت کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر ایک تفصیلی اور فکر انگیز ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔
اپنے اس پیغام میں انہوں نے خاموشی توڑنے والی عالمی آوازوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس جدوجہد کو مسلسل جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاموشی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سلام۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آغاز ہے، انجام نہیں۔ ہم دنیا بھر کے ان تمام صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں، سیاسی رہنماؤں، تنظیموں اور باشعور انسانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ، کو ایک جھوٹے مقدمے میں سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کی آوازیں اس اندھیرے میں امید کی کرن ہیں۔ آپ کے بیانات، آپ کی تحریریں، آپ کی رپورٹس اور آپ کی سوشل میڈیا کیمپئن نے اس خاموشی کی دیوار میں دراڑیں ڈال دی ہیں جسے برسوں سے خوف، جبر اور سنسرشپ کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ مگر ہمیں یہ بھی جاننا ہوگا کہ یہ صرف ایک مقدمے میں دی جانے والی سزا کا معاملہ نہیں ہے۔ اسی نوعیت کے جھوٹے الزامات پر مبنی دیگر پچاس مقدمات بھی تنظیم کے رہنماؤں کو درپیش ہیں۔ گزشتہ بارہ دنوں سے وہ جیل کے احاطے میں تپتی دھوپ کے نیچے فیس لیس ٹرائل کے خلاف احتجاجی دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں، مگر ان کی آواز اب بھی ایک حد تک ان سنی ہے، اور جبر اب بھی برقرار ہے۔
بی وائی سی رہنما کاکہناتھا کہ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ بلوچستان میں خاموشی کوئی اتفاقی کیفیت نہیں بلکہ ریاستی جبر کے ذریعے پیدا کی گئی ہے۔ یہ خاموشی خود پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اسے پیدا کیا گیا ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے صحافت کو جرم بنایا گیا، صحافیوں کو دھمکایا گیا، اغوا کیا گیا اور قتل کیا گیا۔ سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کیا گیا، سوشل میڈیا پر بولنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے، اور پورے سماج کو خوف کے حصار میں قید کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خاموشی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ظلم کو معمول بنا دیا گیا۔ جبری گمشدگیاں بڑھتی رہیں، لاشیں گرتی رہیں، گھروں کے چراغ بجھتے رہے، مگر دنیا کی ایک بڑی تعداد بے خبر رہی۔ جب کسی سماج کی چیخیں سنائی نہ دیں تو ظالم کو مزید جرأت ملتی ہے، اور یہی بلوچستان میں ہوا۔
ویڈیو میں کہا گیا کہ خاموشی کی وجہ سے ہزاروں خاندان آج اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔ خاموشی کی وجہ سے سینکڑوں مائیں اپنے بیٹوں کی تصویریں اٹھائے دربدر انصاف مانگ رہی ہیں۔ خاموشی کی وجہ سے سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کی جدوجہد کو بغاوت بنا کر پیش کیا گیا۔ خاموشی کی وجہ سے بلوچستان کے بارے میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں ہر بلوچ کو مشکوک، ہر سیاسی کارکن کو خطرہ، اور ہر احتجاج کرنے والے کو دشمن بنا کر دکھایا گیا۔
بی وائی سی رہنما نے کہا کہ یہی خاموشی تھی جس کے سائے میں گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں جبری گمشدگیاں ہوئیں، سینکڑوں افراد ماورائے عدالت قتل کیے گئے، سیاسی کارکنوں کو سزائیں سنائی گئیں، اور پورے کے پورے خاندانوں کو اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر دنیا نے پہلے سنا ہوتا، اگر آوازیں پہلے بلند ہوئی ہوتیں، اگر خاموشی کو پہلے چیلنج کیا گیا ہوتا، تو شاید بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ شاید بہت سی مائیں آج اپنے بچوں کے لیے ماتم نہ کر رہی ہوتیں۔ شاید بہت سے نوجوان زندانوں اور عقوبت خانوں میں نہ ہوتے۔ شاید آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے باقی ساتھی چودہ ماہ سے جیل میں نہ ہوتے۔ شاید آج انہیں عمر قید کی سزا نہ سنائی جاتی۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ اسی لیے آج خاموشی محض ایک اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ ایک انسانی قیمت بھی رکھتی ہے۔ بلوچستان میں خاموشی کا مطلب مزید جبری گمشدگیاں ہیں۔ خاموشی کا مطلب مزید لاشیں ہیں۔ خاموشی کا مطلب مزید سیاسی انتقام ہے۔ خاموشی کا مطلب مزید ماؤں کی آہیں، مزید بہنوں کا انتظار اور مزید خاندانوں کی تباہی ہے۔
✊
انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے ہم دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں اور باشعور آوازوں سے کہتے ہیںکہ بولتے رہیے، کیونکہ خاموشی ظالم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ بولتے رہیے، کیونکہ آواز ہی مظلوم کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ بولتے رہیے، کیونکہ جب دنیا خاموش ہوتی ہے تو جیلیں بھر جاتی ہیں، اور جب دنیا بولتی ہے تو ظلم کی دیواروں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ بلوچ، بیبرگ بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر سیاسی قیدی آج بھی آزادی کے منتظر ہیں۔ ہزاروں جبری گمشدہ افراد آج بھی اپنے خاندانوں سے دور ہیں۔ بلوچستان کی مائیں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ اس لیے آپ کی آواز کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ کی ایک پوسٹ، ایک مضمون، ایک تحقیقاتی رپورٹ، ایک بیان، ایک احتجاج اور ایک سوال بھی فرق پیدا کر سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے خاموشی کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ اب ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس آواز کو وقتی ردِعمل نہ بننے دیں بلکہ اسے ایک مستقل عہد، ایک مسلسل مزاحمت اور ایک عالمی انسانی تحریک میں تبدیل کریں۔ بولتے رہیے، جب تک سیاسی قیدی آزاد نہیں ہو جاتے۔ بولتے رہیے، جب تک جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا۔ بولتے رہیے، جب تک بلوچستان کی مائیں اور بہنیں انصاف حاصل نہیں کر لیتیں۔ بولتے رہیے، جب تک سچ کو جرم اور انصاف کو بغاوت سمجھنے کا سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا۔کیونکہ بلوچستان نے خاموشی کی قیمت بہت مہنگی ادا کی ہے۔ اور اب وقت آ گیا ہے کہ خاموشی نہیں، بلکہ سچ بولے۔ خاموشی توڑیے۔ ظلم کو بے نقاب کیجیے۔ انصاف کے ساتھ کھڑے رہیے۔ آپ کے الفاظ معنی رکھتے ہیں، آپ کی آواز زندگیاں بچا سکتی ہے۔