بلوچستان کے علاقے نوشکی میں مسلح افراد نے معدنیات لے جانے والے 60 گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کرکے 10 گاڑیاں نذر آتش کردیں جبکہ سبی میں مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران فائرنگ کرکے بوزر گاڑیوں کے ٹائر تباہ کردیے۔
ضلع نوشکی میں معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 بوزر گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ متعدد دیگر گاڑیوں کے ٹائر فائرنگ سے پھٹ گئے۔
ذرائع کے مطابق معدنیات سے لدے تقریباً 60 گاڑیوں کے قافلے کو نوشکی کے مل کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے قافلے کو روک کر گاڑیوں پر فائرنگ کی اور بعد ازاں کئی بوزر گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس سے وہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے باعث متعدد گاڑیوں کے ٹائر برسٹ ہو گئے، جس کے نتیجے میں قافلے کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ضلع سبی کے علاقے بختیار آباد کے قریب مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کرتے ہوئے گاڑیوں کی تلاشی لی، اس دوران مسلح افراد نے بلوچستان سے معدنیات لے جانے والی بوزر گاڑیوں کو روک کر تلاشی کے بعد انکے ٹائر تباہ کردیے۔
بختیار آباد شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
واضح رہے کہ مذکورہ علاقے میں گذشتہ روز ہی مسلح افراد نے ناکہ بندی کرتے ہوئے پاکستانی فورسز کو رسد پہنچانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا تھا، اس واقعہ کی ذمہ داری بلوچ ریپبلکن گارڈز نامی بلوچ آزادی پسند تنظیم نے قبول کرلی تھی۔
تاہم آج ہونے والے ناکہ بندی و حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں معدنیات اور تجارتی سامان لے جانے والی گاڑیوں پہ حالیہ دنوں میں بھی ایسے حملوں کا سامنا ہے۔