بلوچ وومن فورم نے لکھاری حبیبہ پیر محمد کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں دوسری مرتبہ جبری گمشدگی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچ خواتین کو خوف زدہ اور ہراساں کرنے کی جاری مہم کا تسلسل قرار دیا ہے۔
بلوچ وومن فورم کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، نذر آباد (تمپ) کی رہائشی اور کراچی میں مقیم حبیبہ پیر محمد کو ۲۵ مئی ۲۰۲۶ کی رات بلدیہ ٹاؤن میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
تنظیم نے واضح کیا کہ حبیبہ پیر محمد کی یہ دوسری جبری گمشدگی ہے؛ اس سے قبل انہیں مئی ۲۰۲۲ میں بھی حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ چند روز بعد رہا ہوئی تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ خواتین کو مسلسل جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنانا جبر کے گہرے نظام اور اجتماعی سزا (Collective Punishment) کی عکاسی کرتا ہے۔ اس رویے نے پورے معاشرے میں شدید خوف، ہراس اور عدم استحکام کی فضا پیدا کر دی ہے، جہاں متاثرہ خاندان بغیر کسی معلومات، قانونی چارہ جوئی یا احتساب کے طویل عرصے تک شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
بلوچ وومن فورم نے پریس ریلیز میں متاثرہ خاندانوں کی ذہنی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غیر آئینی عمل کی وجہ سے خاندان شدید ذہنی صدمے (Trauma)، انزائٹی، ڈپریشن اور دیگر طویل مدتی نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
بلوچ وومن فورم نے حبیبہ پیر محمد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو ہراساں اور لاپتہ کرنے کا یہ سلسلہ اب فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
تنظیم نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان اور بلوچ برادری کے خلاف بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا فوری اور مؤثر نوٹس لیں۔