آبنائے ہرمز میں حالات کشیدہ ہیں۔ایران اور امریکا نے ایک دوسرے پر حملوں کا الزام عائد کیا ہے ۔
پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج عمان کی طرف جا رہے تھے، ایرانی میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملے کی زد میں آئے اور اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی فوجی تنصیبات، بشمول لانچ سائٹس اور کمانڈ سینٹرز، کو نشانہ بنایا۔
تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نیوی کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ کا آغاز امریکہ نے ایک ایرانی تیل بردار اور ایک اور دوسرے جہاز کے خلاف کارروائی کر کے کیا، جس کے جواب میں ایران نے امریکی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
امریکی حکام یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ فائرنگ کا ایک محدود تبادلہ ہے جو جنگ کے دوبارہ آغاز کی علامت نہیں، لیکن تہران اسے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک بیان میں امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے جاسک کی بندرگاہ کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی نیوی نے ’شدید دھماکا خیز وارہیڈز‘ کے ذریعے اپنا ردِعمل دیا اور ’انٹیلیجنس نگرانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی دشمن کو نمایاں نقصان پہنچا اور دشمن کے تین حملہ آور جہاز فوری طور پر آبنائے ہرمز کے علاقے سے فرار ہو گئے۔‘
ایرانی میڈیا نے امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے ۔
جمعے کی صبح ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے پاسداران انقلاب کی طرف سے میزائل داغے جانے کے لمحے کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اور قشم اور بندر عباس سے ملحقہ ساحلوں میں امریکی بحری جہازوں پر فائر کیے گئے۔
تاہم سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تنازعے میں شامل تین جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر حملے کیے گئے تھے تاہم انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حملہ آوروں کو ’شدید نقصان‘ پہنچایا گیا اور ان کی متعدد چھوٹی کشتیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ کشتیاں فوری اور مؤثر طریقے سے سمندر کی تہہ میں چلی گئیں۔ ہمارے بحری جہازوں پر میزائل داغے گئے تھے لیکن انھیں آسانی سے گرا دیا گیا۔ اسی طرح ڈرون بھی آئے لیکن انھیں فضا میں ہی ختم کر دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی دوسرا ’نارمل ملک (امریکی) جہازوں کو گزرنے دیتا لیکن ایران کوئی نارمل ملک نہیں ہے۔ اس کی قیادت جنونی کر رہے ہیں‘
ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا موقع ہوتا تو وہ ’ایسا کر گزرتا۔‘
’لیکن انھیں یہ موقع کبھی نہیں ملے گا۔ اگر وہ جلد ہی کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتے تو پھر جس طرح آج ہم نے انھیں مارا ہے، مستقبل میں بھی ہم انھیں اس سے بھی بری طرح ماریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رہے گی اور حملے کی زد میں آنے والے تینوں امریکی بحری جہاز ایک بار پھر ’آہنی دیوار‘ میں شامل ہو جائیں گے۔