چین کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں،برطانوی وزیراعظم کی چینی صدر شی سے ملاقات

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے بیجنگ میں چینی رہنما شی جن پنگ سے ملاقات کی۔

برطانوی وزیر اعظم چین کے اپنے تین روزہ دورے پر پیں۔ وہ 2018 کے بعد اس ملک کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں۔

اپنے افتتاحی کلمات میں سٹارمر نے چین کو ’عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی‘ قرار دیا، اور کہا کہ وہ ’دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے منتظر ہیں‘۔

چینی صدر شی نے پہلے بات کی لیکن ان کی باتیں کم آڈیو لیول کی وجہ سے سننا مشکل تھیں۔

چینی صدر نے کہا کہ ’چین کے ساتھ تعلقات ایک ناگزیر مسئلہ ہے، اور میں اس پر قدر دان ہوں۔‘

انھوں نے کہا ’اچھی چیزیں اکثر وقت اور محنت مانگتی ہیں اور یہ ایک صحیح کام ہے‘۔

’ہمیں طویل مدتی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے، اختلافات سے آگے بڑھنا چاہیے، اور باہمی احترام کو برقرار رکھنا چاہیے۔‘

برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے شی جن پنگ سے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ملے تھے۔

سٹارمر نے صدر شی کو بتایا کہ ’بہت عرصہ‘ ہو گیا ہے جب کسی برطانوی وزیر اعظم نے ملک کا دورہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا ’چین عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم ایک زیادہ سنجیدہ تعلقات قائم کریں۔‘

چین کے ساتھ بہتر تعلقات کے معاشی فوائد پر زور دیتے ہوئے سٹارمر نے کہا ’آج میں یہاں برطانوی عوام کو ذہن میں رکھتے ہوئے موجود ہوں۔ ‘

’کیونکہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، بیرون ملک واقعات ہمارے ملک میں ہونے والے ہر واقعے کو متاثر کرتے ہیں، چاہے وہ سپر مارکیٹ کی شیلف پر قیمتیں ہوں یا ہمارا احساس تحفظ ہو۔‘

برطانوی وزیر اعظم چین کے اپنے تین روزہ دورے پر پیں۔ وہ 2018 کے بعد اس ملک کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں۔

سٹارمر، جو 60 کاروباری اور ثقافتی رہنماؤں کے وفد کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ دورہ ان کے ہم وطنوں کے لیے فوائد لے کر آئے گا۔

انسانی حقوق کے مسائل پر وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ’ہمیشہ ایسے مسائل اٹھائے ہیں جنہیں اٹھانے کی ضرورت ہے‘، تاہم انھوں نے اس حوالے سے تفصیلات میں جانے سے گریز کیا۔

برطانیہ کے چین کے ساتھ تعلقات کو ایک مستقل مگر پس پردہ کشمکش کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے سکیورٹی رپورٹر فرینک گارڈنر لکھتے ہیں کہ اگرچہ برطانیہ-چین تعلقات کی مکمل بحالی ممکن نہیں تاہم آج کی ملاقات حقیقت پسندانہ طور پر سفارتی کوششوں کی ابتدا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ کیئر سٹارمر کا دورہ ’برطانیہ کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد کو بڑھانے اور عملی تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔‘

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن کا کہنا تھا کہ لندن نے ’واضح آمادگی‘ ظاہر کی ہے کہ وہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو ’مستقل، طویل مدتی اور سٹریٹجک انداز میں‘ مضبوط کرے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’باہمی اعتماد کو مضبوط کرنا، دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینا، اور باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھانا دونوں ممالک اور باقی دنیا کے مفاد میں ہے۔‘

توقع ہے کہ سٹارمر اور صدر شی ایک ’سرحدی سکیورٹی معاہدے‘ پر بھی دستخط کریں گے، تاکہ چھوٹی کشتیوں کے انجنوں کی فراہمی میں خلل ڈالا جا سکے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ برطانیہ میں رہنے کے حق سے محروم تارکین وطن کی نکاسی کو ’بڑھائے گا‘۔ یہ معاہدہ کشتیوں اور انجنوں کو انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بھی ہے، جو تارکینِ وطن افراد کو برطانیہ جانے والے چھوٹے جہازوں پر سوار کرتے ہیں۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ سال سمگلنگ گینگز سے ضبط کیے گئے 60 فیصد سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کے انجن چینی زبان میں پائے گئے تھے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article