ایران میں جاری مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 648 ہوگئی ، 9 بچے بھی شامل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ جب سے ایران میں مظاہرے شروع ہوئے ہیں، اب تک نو بچوں سمیت کم از کم 648 مظاہرین ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

ناروے میں قائم تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مغدام نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ یہ تعداد کم سے کم ہے اور اندازہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کے بقول ’کیونکہ ہمیں بہت سے شہروں سے قابل اعتماد معلومات نہیں ملی ہیں۔‘

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور معلومات تک رسائی پر سخت پابندیوں کی وجہ سے موجودہ حالات میں آزادانہ تصدیق کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس انداز میں دستاویز کرنا تقریباً ناممکن ہے جس طرح تنظیم نے ہمیشہ کیا ہے۔

ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی اندازہ لگایا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 10,000 سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے عوام سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے پیر کے روز ایک اعلان کیا گیا کہ جس میں شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

ایران کی بلڈ ٹرانسفیوزن آرگنائیزیشن سے متعلق یہ اعلان سوشل میڈیا پر اُن قیاس آرائیوں کے ساتھ سامنے آیا کہ جن میں کہا گیا تھا کہ اس ادارے میں خون کی قلت کی وجہ مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔

ایک ویڈیو میں ایران کے قدس سکوائر میں جاری مظاہروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس ویڈیو کی تاریخ کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے لیکن اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ حالیہ ملک گیر احتجاجات سے متعلق ہے۔

قدس سکوائر سے ویڈیو بھیجنے والے کا کہنا ہے کہ یہ مناظر جمعرات کو ریکارڈ کیے گئے تھے۔

ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش کے باعث احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز تاخیر سے بیرونی دُنیا تک پہنچ رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی درست تاریخ کا تعین مشکل ہو گیا ہے۔

امریکی چینل فاکس نیوز کے رپورٹر تری ینگست نے بتایا کہ انھوں نے پیر کے روز اصفہان میں ایک شخص سے رابطہ کیا جس نے انھیں بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر تشدد اور اسلحے کے استعمال کے باوجود احتجاج جاری ہے۔‘

Share This Article