برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ اگر ایران اگست کے آخر تک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ اس کے جوہری پروگرام پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ای تھری کے نام سے جانے جانے والے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ایران مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کرتا تو وہ ’اسنیپ بیک‘ میکانزم متعارف کرانے کے لیے تیار ہیں جس کا مطلب ہے کہ سابقہ پابندیاں بحال کر دی جائیں گی۔
ای تھری مُمالک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے مذاکرات کے لئے ڈیڈ لائن کو اگست کے آخر تک بڑھانے کی پیش کش کی تھی جس پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ایران کے قانون ساز منوچہر موتاکی نے کہا ہے کہ اگر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو ایرانی پارلیمنٹ جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے۔
ای 3 کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھا جانے والا یہ خط گزشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں ایرانی سفارتکاروں اور وفود کے درمیان ابتدائی مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے سربراہ انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں تین وزرائے خارجہ فرانس کے جین نوئل باروٹ، برطانیہ کے ڈیوڈ لیمی اور جرمنی کے جوہان واڈیفل نے کہا ہے کہ ’اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامند نہیں ہوتا تو وہ اس پر سخت پابندیاں عائد کریں گے۔‘
خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم (ای تھری) نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران اگست 2025 کے اختتام سے قبل سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہے یا توسیع کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا ہے تو ای 3 اسنیپ بیک میکنزم شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’تمام سفارتی ذرائع‘ استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔‘
گزشتہ ماہ ایران نے کہا تھا کہ وہ مزید مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن صرف اس وقت جب پہلے سے عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں اور سویلین جوہری پروگرام پر اس کے حق کو تسلیم کیا جائے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں اس سے قبل 2015 میں اس وقت اٹھالی گئی تھیں جب ایران نے ای تھری، امریکا، روس اور چین کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں اس کے جوہری آپریشنز کو محدود کرنے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اس کے جوہری مقامات پر داخلے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ اکتوبر میں ختم ہونے والا ہے۔
خیال رہے کہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں امریکا نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی اور صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس نے ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے بہت کم کام کیا تھا۔
تاہم اُن کے حکومت کے جانے سے بعد ایران پر تمام امریکی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی گئیں تھیں۔