نیتاجی – ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما سبھاش چندر بوس کی سوانح عمری،فکر و نظریات

ایڈمن
ایڈمن
18 Min Read

(…..ایک قسط وار سلسلہ…..)
تحریر: شری چمن لال آزاد پیش کردہ : ادارہ سنگر

”نیتا جی“ہندوستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنماشری سبھاش چندر جی بوس کی سوانح عمری، جدجہد،فکرو نظریات اورتعلیمات پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے شری چمن لال آزاد نے تحریر ہے۔یہ کتاب اقوام عالم میں جاری جدو جہد آزادی کی تحریکات کیلئے ایک عظیم اثاثہ ہے جس کی رو سے وہ اپنی جدو جہد کیلئے بہتر رستے متعین کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کتاب جدو جہد کی ایک عظیم تاریخ و تجربت رکھتی ہے۔ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ سبھاش چندربوس کی تعلیمات، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں۔چونکہ یہ کتاب بہت نایاب ہے اور عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے اسی لئے اسے اپنے قارئین، بلوچ حلقوں اور بلوچ جہد آزادی کے جہد کاروں کے لئے پیش کیا جارہاہے۔(ادارہ سنگر)

(گذشتہ سے پیوستہ)
(29 ویں اور آخری قسط)

نیتاجی کہاں ہو!!
نیتاجی نے ایک بار کہا تھا۔ "جب تک میں دہلی نہیں پہنچوں گا۔ نہیں مروں گا۔”
یہ اس وقت کی بات ہے۔ جب اتحادی فوجیں رنگون میں داخل ہورہی تھیں۔ اور نیتاجی گرفتاری سے بچنے کے لئے گھوڑے پر سوار بلواکر برما سے فرار ہوگئے تھے۔ چند ماہ بعد حالات نے یکایک پلٹا کھایا۔ اور جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے۔ جس روز یہ واقعہ ہوا۔ اس روز آپ سنگاپور میں تھے۔ جب آپ کو جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی اطلاع ملی۔ تو آپ نے سنگاپور ریڈیو سے اعلان کیا۔ کہ جاپانی بھلے ہی ہتھیار ڈال دیں۔ لیکن آزاد ہند فوج بدستور جنگ آزادی میں حصہ لیتی رہے گی۔
،بعدازاں آپ سنگاپور سے ٹوکیو کے لئے روانہ ہوگئے۔ اور جاپانی ریڈیو سے یہ اطلاع براڈ کاسٹ کی گئی۔ کہ آپ راستے میں ہوائی حادثہ کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔ کسی کو اس منحوس خبر پر یقین نہ آیا۔ دنیا جانتی ہے کہ شری سبھاش بوس فرار ہونے میں ماہر ہیں۔ دراصل حقیقت بھی یہ ہی ہے۔ جب انہوں نے دیکھا۔ کہ جنگ کا رخ پلٹ گیا ہے۔ تو آپ فرار ہوگئے۔ اور اتحادیوں کی آنکھوں میں دھول ڈالے کے لئے یہ بات مشہور کردی گئی۔ کہ آپ ہوائی حادثہ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ سب سے پہلے گاندھی جی نے اس اطلاع پر شک کا اظہار کیا۔ آپ نے ایک تقریر کے دوران میں کہا۔ "مجھے یقین ہے کہ شری سبھاش چندر بوس زندہ ہیں۔”
چند روز بعد کونٹائی (بنگال) میں تقریر کرتے ہوئے گاندھی جی نے پھر اس بات کو دہرایا۔ اس فرضی ہوائی حادثہ کے 4ماہ بعد فاروڈ بلاک کے لیڈر شری کامتھ نے ایک بیان میں یہ انکشاف کیا۔ کہ انہیں غیر ممالک سے بعض معتبر اطلاعات ملی ہیں۔ جن کی بناء پر وہ وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں۔ کہ نیتاجی زندہ ہیں۔
کانگریسی لیڈروں کی رہائی کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی سبھاش بوس کے متعلق ماتمی ریزولیوشن پاس نہ کیا گیا۔ اور جب آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں سبھاش کے متعلق ماتمی ریزولیوشن پیش کرنے کی اجازت طلب کی گئی۔ توراشٹرپتی آزاد نے کھلے الفاظ میں اعلان کردیا۔ کہ کانگریس ہائی کمان کو نیتاجی کی موت پر شک ہے۔ اس حادثے کے متعلق زیادہ روشنی جاپان میں مقیم ہندوستانی باشندے ہی ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ جاپانیوں نے یہ دعویٰ کیا تھا۔ کہ نیتاجی کی آخری رسوم ٹوکیو میں ادا کی گئیں۔ لیکن جاپان میں مقیم ہندوستانیوں کو اس خبر پر شک ہے۔ انہیں یقین ہے کہ نیتاجی خود بخود کچھ عرصہ کے لئے غائب ہوگئے ہیں۔ اور اس وقت منظر عام پر آئیں گے جب حالات معلوم پر آجائیں گے۔ حال ہی میں شری سبھاش چندر بوس کے فوجی سیکریٹری کرنل محبوب احمد لال قلعہ دہلی سے رہا ہوئے ہیں۔ ان سے یہ دریافت کیا گیا۔ کہ کیا انہیں نیتاجی کی موت پر یقین ہے۔ تو آپ نے کہا۔ ان کی موت کے متعلق جاپانی ڈاکٹروں کے کہنے پر ہی وشواس کیا گیا ہے۔ کسی نے ان کا انتم سنسکار ہوتے نہیں دیکھا۔ اس لئے ان کی موت کی اطلاعات میں یقین کرنا مشکل ہے………… ایک امریکن نامہ نگار نے ان تمام قیاس آرائیوں کپو ختم کرتے ہوئے واضح طورپر یہ اعلان کردیا ہے کہ نیتاجی زندہ ہیں۔ آپ لکھتے ہیں -:
"شری سبھاش بوس کا خوف ہندوستان کے برطانوی حکام کو سخت پریشان کررہا ہے۔ انہیں ہر وقت ایہ اندیشہ لگارہتا ہے۔ کہ کسی بھی وقت ہندوستان کا وہ سب سے بڑا لیڈر ظاہر ہوجائے گا۔ جو برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان مصالحت کے تمام امکانات ختم کردے گا۔ میں پانچ ماہ تک اس بات کی تحقیقات کرتا رہا ہوں۔ کہ آیا سبھاش چندر بوس زندہ ہے یا مرچکا ہے۔ اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں۔ کہ وہ زندہ ہے۔ اور واپس ہندوستان آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر واپس آنے سے پہلے کسی نے ان سے دغا نہ کی۔ اور آپ "اتفاقیہ”کسئی کی گولی کا نشانہ نہ بن گئے۔ تو آپ لازمی طورپر واپس ہندوستان آکر ایک زبردست بغاوت کی رہنمائی کریں گے۔ اس وقت ہندوستان میں ایک خفیہ جماعت شری سبھاش چندر بوس کی آمد کا انتظار کررہی ہے۔ میں نے ایک برطانوی جرنیل سے دریافت کیا تھا۔ کہ اگر سبھاش بوس واپس ہندوستان پہنچ جائیں۔ تو پھر کیا ہوگا۔ اس جرنیل نے کہا۔ پھانسی کی سزا کا توذکر ہی کیا۔ کوئی بھی عدالت انہیں معمولی سی بھی سزا دینے کی جرأت نہ کرے گی۔ کیونکہ شری سبھاش چندر بوس کے ہندوستان میں ظاہر ہونے پر وہ طوفان اٹھے گا۔ جو لازمی طورپر برطانوی سلطنت کو ختم کردے گا۔
حکومت ہند نے کلکتہ پولیس کے ایک بڑے افسر کو جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں اس غرض سے بھیجا تھا۔ کہ وہ ان کی موت کی تحقیقات کرے اس نے بھی مجھے بتایا۔ کہ شری سبھاش بوس زندہ ہیں۔

ایک اور امریکن نے یہ انکشاف کیا ہے۔ کہ 24اگست کے روز شری سبھاش بوس جاوا کے انقلابی لیڈر ڈاکٹر سوکارنو کے ہمراہ سائیگاوں میں دیکھے گئے تھے۔ یاد رہے کہ ہوائی حادثہ 18اگست کو ہوا تھا۔ چنانچہ حادثہ کے چھ روز بعد ان کا سیگاؤں میں دیکھا جانا اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ نیتاجی زندہ ہیں۔
17جون 1946ء کو اخبار "ہندوستان اسٹینڈرڈ” کے نامہ نگار نے شیلانگ سے اطلاع دی ہے۔ کہ ساری ہندوستانی برمی سرحد پر اس امر کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہ اگر نیتاجی ہندوستان میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔ تو انہیں گرفتار کرلیا جائے۔ یہ انکشاف ان تبتی تاجروں نے کیاہے۔ جو وادی لاہٹ کے راستے حال ہی میں ہندوستان آئے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ برطانوی خفیہ پولیس یعنی اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کا ایک دستہ اور مختلف صوبوں کی سی آئی ڈی کے بہت سے ممبر ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت ہند کے افسروں کی براہ راست نگرانی میں نہایت سرگرمی سے نیتاجی کی تلاش کے لئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔ جو شخص وادی لاہٹ کے راستے برما کی سرحد پار کرکے ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں۔ ان سے پچھ گچھ کی جاتی ہے۔ تاجروں اور مسافروں کو عام طورپر نیتاجی کی تصویریں دکھائی جاتی ہیں۔ اندر ان کپے متعلق سوالات دریافت کئے جاتے ہیں۔ نیز برما کے قبائلی علاقوں میں ڈھول کے ذریعے منادی کرادی گئی ہے کہ جو شخص ایک خوبصورت باریش بلند قامت ہندوستانی راجا کو۔ جو اس وقت سادھو کے بھیس میں گھوم رہا ہے۔ گرفتار کرانے میں مدد دے گا۔ اسے بھاری انعام دیا جائے گا۔ نیتاجی کی بڑی بڑی تصویروں کے ساتھ یہ اعلان دیہات میں بھاری تعداد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہاڑی چوٹیوں پر جہاں سے درے نظر آتے ہیں۔ سرچ لائٹ نصب کردی گئی ہے۔ اور وائر لیس سگنل لگائے گئے ہیں۔ نیز خفیہ مقامات پر ایسے آدمی تعینات کئے گئے ہیں۔ جن کے پاس دوربینیں ہیں۔ وہ مسافروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ دیکھ بھال کرنے والی پارٹیاں بعض اوقات قبائلی دیہات میں پچھ گچھ کرنے جاتی ہیں۔ افسروں کو یقین ہے کہ شری سبھاش چندر بوس ابھی تک ہندوستان میں داخل نہیں ہوئے۔ بعض لوگوں کے بیانات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے۔ کہ گزشتہ موسم سرما میں تین ہندوستانی فقیروں نے جن میں ایک نیتاجی سے ملتا جلتا تھا۔ چھ مضبوط البحثہ چینیوں کے ہمراہ برما کے راستے ہندوستان میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہ ناکام رہے۔
جونہی انہیں معلوم ہوا کہ ان کی گرفتاری کے جال بچھائے گئے ہیں اور کہ کئی قبائلی دیہات کا محاصرہ کرلیا گیا ہے۔ وہ پوپھٹنے سے پہلے ہی فرار ہوگئے۔”
ان تمام واقعات سے یہ بات ثابت ہوگئی۔ کہ نیتاجی آج کل فقیرانہ لباس میں روپوش ہیں۔ اور کہ وہ ہندوستان آنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس قومی فقیر نے 1941ء میں بھی ہندوستان سے فراری کے سمے فقیرانہ لباس پہنا تھا۔ کئی صدیوں کی بات ہے۔ شیواجی مرہٹہ کو جنگ میں شکست ہوئی۔ انہوں نے بھوانی دیوی کی پوجا شروع کردی۔ بھنوانی دیوی نے خوش ہوکر انہیں تلوار دی۔ جس کی مدد سے شیواجی نے دشمنوں پر فتح حاصل کرلی۔ کلکتہ کے کانگریسی بھی آج کل بھوانی دیوی کی پوجا کررہے ہیں۔ جس مندر میں یہ دیوی ستھاپت ہے۔ اس میں نیتاجی کو بھوانی دیوی کے ہاتھوں فتح کی تلوار لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تاریخی روایت کے ساتھ ان کے ہم وطنوں کی کئی آشائیں وابستہ ہیں۔ ہر ہندوستانی کی یہ خواہش ہے۔ کہ نیتاجی جلد از جلد ہندوستان آئیں۔
جب آپ ہندوستان آئیں گے۔ تو لوگ انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھ کر ان کی پوجا کریں گے۔ گھر گھر میں گھی کے چراغ جلائے جائیں گے۔ ملک کے طول و عرض میں اس قدر خوشی منائی جائے گی۔ کہ اسے دیکھ کر دیوتا بھی دنگ رہ جائیں گے۔ ہزاروں برس ہوئے۔ چودہ برس کے بن باس کے بعد رام جو دھیاپہنچے تھے۔ دیکھیں موجودہ زمانے کا رام…… ہمارا پیارا سبھاش۔ کب بن باس سے واپس آتا ہے؟
نیتاجی! تم کہاں ہو؟ اپنے دیش کی پکار سنو! چالیس کروڑ ہندوستانی آپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں۔ ہمارے دیوتا۔ ذرا رخ پر سے پردہ اٹھاؤ۔ چالیس کروڑ پجاری آپ درشنوں کیلئے بے تاب بیٹھے ہیں۔ آپ کب انہیں درشن دیکر ان کے جیون کو سپھل کرو گے؟ ہم آپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں "

گاندھی یا سبھاش
دوسری عالمگیر جنگ ختم ہوچکی ہے۔ اس جنگ نے تمام دنیا کو سرے سے ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ کئی حکومتوں کے نام و نشان مٹ گئے ہیں۔ بڑے بڑے فرعون مزاجوں کے سرخم ہوگئے ہیں۔ نئی طاقتیں جنم لے رہی ہیں۔ ایشیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک بیداری کی جولہر دکھائی دیتی ہے۔ وہ بھاری اہمیت رکھتی ہے۔ جاوا، ہندچینی، فلپائن، ملایا، برما اور ہندوستان کا پنر جنم ہورہا ہے۔ یایوں کہیے کہ سارا ایشیا صدیوں کی غلامی سے بیدار ہوکر کروٹ پلٹ رہا ہے۔ تاریخ کے اس نازک دور میں ایشیائی ممالک کو ایک قابل رہنما اور ہوشیار سیاست دان کی ضرورت ہے۔ گاندھی جی سے یہ تقع رکھنا کہ وہ ایشیا بھر کے محکوم باشندوں کی انقلابی تحریک کی رہنمائی کریں گے۔ فضول ہے۔ ان کا بوسیدہ پالیٹکس موجودہ زمانہ میں مؤثر ثابت نہیں ہوسکتا۔ عدم تشدد اور اہنسا کا یہ پجاری مشین گنوں اور ٹینکوں کی دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس وقت نہ صرف ہندوستان کو ہی بلکہ ایشیا کے دوسرے ممالک کو بھی رہنمائی کے لئے کسی انقلابی لیڈر کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت شری سبھاش کے سوا کوئی دوسرا لیڈر پوری نہیں کرسکتا۔ موجودہ جنگ کے دوران انہوں نے جس تدبر، سیاست دانی اور ڈپلومیسی کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے یہ بات یقینی طورپر کہی جاسکتی ہے۔ کہ ان جیسے قابل لیڈر کے ہاتھ میں ایشیا کا مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے۔ ایشیا کی غلام اقوام کو یورپین حکمرانوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے تمام ممالک کی تحریکوں کو منضبط کرنے کی ضرورت ہے۔ جاوا کے مسئلہ پر ایشیائی باشندوں نے یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کی بنیاد پر انڈونیشیا، ملایا، فلپائن، برما، ہندچینی اور ہندوستان کے باشندوں کی ایک فیڈریشن یا لیگ کی بنیاد قائم کی جاسکتی ہے۔
اس فیڈریشن کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے تمام اجزاء کی آزادی کے لئے فوراً ایک سرگرم تحریک جاری کرے۔ یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے۔ کہ امپیرئلسٹ طاقتوں کے لئے اس قسم کی ہمہ گیر تحریک کو کچلنا ناممکن ہوجائے گا۔ اور چار و نا چاریہ تمام ممالک آزاد ہوجائیں گے۔
یورپین اقوام کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد ان تمام ممالک کو اپنی اپنی قومی فوجیں آرگنائز کرنی ہوں گی۔ ہندوستان میں یہ کام آزاد ہند فوج کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔ اس فوج کے سپاہیوں اور افسروں نے امپھل کے میدانوں اور برما کی پہاڑیوں میں بہادری کے جوجوہر دکھائے تھے۔ وہ اس بات کے ضامن ہیں۔ کہ آزاد ہندوستان فوجی لحاظ سے ایک زبردست طاقت حاصل کرلے گا۔ برما میں قومی فوجوں کی تنظیم کا کام جنرل آنگ سان اور ان کے ساتھیوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ جاوا میں ڈاکٹر سوکارنو اور ڈاکٹر شرر کے ساتھی اس کام کو نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتے ہیں۔
آنے والے دور میں سارے ایشیا کا نعرہ یہ ہونا چاہیے۔ کہ ایشیا میں صرف ایشیائی باشندوں کو ہی حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس نعرے کو انگریزی میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔
"ASIA FOR ASIATICS”
جب ایشیائی ممالک کی آزاد گورنمنٹیں اس نعرے کو اپنائیں گی۔ تو کوئی غیر ایشیائی طاقت ان گورنمنٹوں کی طرف آنکھ اٹھاکر نہ دیکھ سکے گی۔
شری سبھاش چندر بوس نے اپنی زندگی کو جان جوکھوں میں ڈال کر ایشیا کے تمام باشندوں کو آزادی کا سبق سکھلادیا ہے۔ انہوں نے یہ بات واضح کردی ہے۔ کہ گاندھی جی جیسے سیاست دانوں کے ہاتھ میں نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیا کا مستقبل مخدوش ہے۔
ان حالات میں تمام ہندوستانیوں کا فرض ہے۔ کہ وہ نیتاجی شری سبھاش چندر بوس کے جھنڈے تلے جمع ہوکر نہ صرف اپنے ملک کو ہی بلکہ سارے ایشیا کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے ہمہ تن مصروف ہوجائیں۔
دیگر ایشیائی ممالک کی طرح ہمارے دیش کا مستقبل بھی شاندار ہے۔ لیکن محض ہاتھ پر ہاتھ دھرکر بیٹھے رہنے۔ چرخہ کاتنے اور پکٹنگ کرنے سے اس شاندار مستقبل کا وجود قیام میں نہیں آسکتا۔ نوجوانو! گاندھی ازم کے خلاف بغاوت کرو۔ گاندھی جی کے دقیانوسی سیاسی فلسفے کے خلاف جہاد کرو۔ کانگریس پر چھاجاؤ۔ بوسیدہ اور پرانی لیڈر شپ کا خاتمہ پڑھ دو۔ آزادی کی فیصلہ کن جنگ کے لئے نئے خون کی ضرورت ہے۔ نیتاجی کے جھنڈے تلے آؤ!!!
"جے ہند”

Share This Article
Leave a Comment