بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کوہ چلتن دامن میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی قیادت میں بی وائی سی قائدین کی رہائی کے لئے 6 دنوں سے دھرناجاری ہے ۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز بلوچستان حکومت اور سردار اختر مینگل کے درمیان مزاکرات دوسری دفعہ ناکام ہوگئے ہیں۔
حکومتی وفد میں ظہور بلیدی، بخت محمد کاکڑ، اور سردار نور احمد بنگلزئی شامل تھے۔
حکومت بلوچ رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی پر آمادہ نہیں ہوئی جب کہ اختر مینگل اور بی وائی سی نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ساتھیوں کی رہائی کے بغیر دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔
مزاکرات کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں سردار اختر مینگل نے بات چیت میں ڈیڈ لاک برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی وفد کے لاس اختیار نہیں تھا ایک بے اختیار کمیٹی کے ساتھ کیا مزاکرات ہوسکتے تھے۔
اختر مینگل کا کہنا ہے کہ دھرنا زیر حراست بلوچ خواتین اور بیٹیوں کے لیے ہے اور ان کی رہائی تک جاری رہے گا۔
بی این پی نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں، بشمول ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ، کے ساتھ ساتھ کوئٹہ میں ان کے دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ جمعہ کو وڈھ سے کوئٹہ تک ایک لانگ مارچ شروع کیا تھا۔
واضح رہےکہ سمی دین بلوچ کو کل رہا کر دیا گیا ہے۔
قبل ازیں دن میں، صوبے کی مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے رہنما اور عہدیدار مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پہنچے۔ ان میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ماما قدیر بلوچ اور حوران بلوچ، اور قبائلی رہنما سردار نادر لنگو شامل تھے۔
سردار اختر جان مینگل نے آج مستونگ لک پاس میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کیا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم ہمیشہ میرے ساتھ کھڑی رہی ہے، اب میری باری ہے کہ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔
بی این پی کی جانب سے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا دھرنا لک پاس کے قریب جاری ہے، جہاں بلوچستان بھر سے لوگ آکر سردار اختر جان مینگل سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں، بی این پی حکومت سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے، سمی دین بلوچ کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ دیگر کارکنان زیرحراست ہیں۔
دھرنےکے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے، سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر حکومت بلوچستان میں امن چاہتی ہے تو اسے اپنی پالیسیوں میں واضح تبدیلی لانا ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ دھرنا زیر حراست بلوچ خواتین اور بیٹیوں کے لیے ہے اور ان کی رہائی تک جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے دھمکیوں اور گرفتاریوں سے یہ مزید خراب ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ باشعور ہو چکے ہیں اور حالات 1970 جیسے نہیں رہے۔
اختر مینگل نے صورت حال پر بلوچستان حکومت کی خاموشی پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ وفاقی وزراء کی طرف سے پیغامات اور بیانات آرہے تھے۔