تربت ، قلات، بارکھان و بربچہ میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی گرفتاری وریاستی مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان بھر میں نہتے وپر امن مظاہرین پر ریاستی کریک ڈائون ، فائرنگ ،بلوچ نسل کشی ، جبری گمشدگیوں اور ماورائے آئین گرفتاریوں کیخلاف احتجاج جاری ہیں۔

آج پنجگور ، کوئٹہ ،بلیدہ ،تربت ، قلات ، کراچی ، بارکھان اور بربچہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جہاں فورسز نے مکمل کریک ڈائون کرکے متعدد افراد کو جن میں خواتین بھی شامل ہیںکوگرفتار کرلے لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ براہ راست فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے کارکنوں کی گرفتاری، پر امن دھرنا پر ریڈ، فائرنگ اور ہلاکتوں کے خلاف تربت میں پیر کو ایک پرامن ریلی نکالی اور شہید فدا چوک پر دھرنا دیا گیا۔

ریلی کا آغاز شہید فدا چوک پر بی وائی سی کی دھرنا گاہ سے کیا گیا جس میں مردوں کے علاوہ سیکڑوں خواتین اور بچے شریک تھے۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور احتجاجی نعروں پر مبنی بینرز اٹھائے نعرہ بازی کرتے ہوئے شہر کی مختلف گلیوں اور روڈوں پر مارچ کیا اور دوبارہ دھرنا گاہ پپنچ کر جلسہ کیا۔

بی وائی سی کے رہنماؤں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اب قوم کی امید بن گئی ہیں اسے عوام سے الگ رکھنا محال ہے وہ. لوگوں کے دلوں میں بس چکی ہیں جنہیں کوئی جبر اور فسطائیت نہیں نکال سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری ہمارے لیے انوکھا نہیں بلکہ اول روز سے اپنے بنیادی حقوق اور قومی تشخص کے لیے بلوچ قیادت ہر طرح کی قربانی دیتے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبگر بلوچ، بیبو بلوچ اور ناصر کمبرانی سمیت تمام گرفتار قائدین کی رہائی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

احتجاج کے بعد مظاہرین نے شہید فدا چوک پر قائم دھرنا گاہ میں بیٹھ کر دھرنا دیا جہاں بی وائی سی کی قیادت کے مطابق ٹوکن ہڑتال مغرب تک جاری رہے گا۔

اسی طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے قلات بازار میں ایک پُرامن ریلی نکالی گئی۔

ریلی کے شرکاء نے ریاستی جبر کے خلاف نعرے بلند کیے اور بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کی۔

مقررین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ بلوچ قوم کی جدوجہد کو ظلم اور جبر کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری دراصل بلوچ عوام کی آواز کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں کبھی دبتی نہیں بلکہ اور زیادہ قوت سے ابھرتی ہیں۔

مقررین نے ریاستی کریک ڈاؤن اور طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مظالم بلوچ عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تحریک کسی فرد کی نہیں بلکہ بلوچ قوم کی اجتماعی جدوجہد ہے، جو مزید منظم ہو کر آگے بڑھے گی۔

ریلی کے اختتام پر مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر قسم کے جبر کے خلاف ڈٹے رہیں گے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر مزاحمت جاری رکھیں گے۔

بی وائی سی پر ریاستی کریک ڈاؤن کے خلاف رکھنی، بارکھان میں بھی پرامن ریلی نکالی گئی۔

رکھنی بارکھان ریلی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ اپنی ماؤں بہنوں کی گرفتاریوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔

ریلی کے شرکاء نے بی وائی سی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ نگ بلوچ، بیبگر بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کی حمایت میں نعرے لگائے۔

مارچ بینک الحبیب سے شروع ہو کر ایف سی چھاؤنی کی طرف بڑھا جہاں پولیس نے ایک بار پھر دھمکیوں کا سہارا لیا اور پرامن ریلی کو زبردستی ختم کرنے کا دعویٰ کیا۔ جس کے نتیجے میں مظاہرین اپنا مظاہرہ ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔

علاہ ازیں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کچھ شرکاء کی پروفائل بنانے کی کوشش کی۔

دریں اثناضلع چاغی کے علاقے بربچہ میں بھی گزشتہ روز 22 مارچ کو بربچہ میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کا آغاز پاک افغان سرحدی بازار سے ہوا۔

مظاہرین نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) پر ظالمانہ کریک ڈاؤن اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کی گرفتاری کے خلاف اظہار یکجہتی کے لیے مارچ کیا۔

ریاستی جبر کے خلاف مکمل ہڑتال کے باعث دکانیں اور کاروبار بند رہے۔

یہ مظاہرہ بلوچستان بھر میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ لوگ جبری گمشدگیوں، پولیس تشدد، اور پرامن اختلاف رائے کو دبانے کے خلاف کھڑے ہیں۔

Share This Article