شفیق مینگل کی توتک میں واپسی بلوچوں کے لیے براہ راست خطرہ ہے،ڈاکٹر نسیم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہےکہ بدنام زمانہ دہشت گرد اور ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ شفیق مینگل کو ایک بار پھر پاکستانی فوج نے بلوچستان کے علاقے توتک میں بٹھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شفیق مینگل کے مظالم کی طویل تاریخ میں شیعہ برادریوں پر فرقہ وارانہ حملوں کا اہتمام کرنا، کشمیر اور افغانستان میں پاکستان کی خفیہ جنگوں میں پراکسی کے طور پر کام کرنا، اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سب سے سفاکانہ مہموں میں سے ایک کی قیادت کرنا شامل ہے۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ توتک خود ان کے جرائم کی ایک سنگین یاد دہانی ہے، اجتماعی قبروں کا گھر جہاں لاتعداد بلوچ لاپتہ افراد، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے متاثرین پائے گئے۔

شفیق مینگل

انہوں نے کہاکہ شفیق مینگل کی پاکستانی ریاست کی سرپرستی سیاسی اختلاف کو دبانے اور دہشت گردی کے ذریعے کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ڈیتھ اسکواڈز کے منظم استعمال کو بے نقاب کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ توتک میں ان کی واپسی صرف ایک علامتی اقدام نہیں ہے بلکہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے براہ راست خطرہ ہے، جو ریاستی حمایت یافتہ اغوا، قتل اور اجتماعی پھانسیوں کے تسلسل کا اشارہ ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے بیان میں دنیا کو نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے بلکہ وہ بلوچ مزاحمت کو کچلنے کے لیے انہیں فعال طور پر تعینات کر رہا ہے۔ آزاد بلوچستان خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے۔

Share This Article