اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کریم آغا خان وفات پاگئے

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور دنیا بھر میں فلاحی کاموں کے لیے جانے جانے والے ارب پتی کریم آغا خان 88 برس کی عمر میں پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں وفات پا گئے ہیں۔

اُن کی فلاحی تنظیم ’آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک‘ نے اُن کی موت کی تصدیق کی ہے اور سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے اہلخانہ کی موجودگی میں ’پرسکون طریقے سے چل بسے۔‘

کریم آغا خان کا اصل نام کریم الحسینی تھا اور انھیں نہ صرف اسماعیلی برادری بلکہ پوری دنیا بہت عقیدت اور عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ وہ خاص طور پر اپنے فلاحی کاموں اور مفادِ عامہ کے لیے قائم کیے گئے اداروں کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے تھے۔

کریم آغا خان کی وفات پر ان کی فلاحی تنظیم آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے اپنے بیان میں بھی ’شہزادہ کریم کے اہلخانہ اور دنیا بھر میں اسماعیلی برادری سے‘ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مذہبی وابستگی اور نسل سے بالاتر ہو کر مستحق افراد اور کمیونٹیز کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جیسا کہ شہزادہ کریم چاہتے تھے۔‘

کریم آغا خان تقریباً سات دہائیوں تک اسماعیلی شیعہ برادری کے امام رہے۔ اسماعیلی ایک مسلم فرقہ ہے جس کی دنیا بھر میں آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ ان میں پاکستان میں مقیم پانچ لاکھ سے زائد افراد بھی شامل ہیں جبکہ انڈیا، افغانستان اور افریقہ میں بھی اس فرقے کی بڑی آبادی موجود ہے۔

اس برادری کا ماننا ہے کہ اُن کے امام کا شجرۂ نسب براہ راست پیغمبرِ اسلام سے ملتا ہے تاہم اسماعیلی مسلمانوں کی امامت کا سلسلہ امام جعفر صادق (چھٹے امام) کے بعد شیعہ اثنا عشری مسلمانوں سے مختلف ہو جاتا ہے۔

شیعہ اثنا عشری جعفر صادق کے بعد اُن کے فرزند موسیٰ کاظم اور ان کی اولاد کی امامت کے قائل ہیں جبکہ اسماعیلی مسلمان جعفر صادق کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر (جن کی وفات امام جعفر صادق ؑکی زندگی میں ہی ہو گئی تھی) کو اپنے ساتویں امام کا درجہ دیتے ہیں اور ان کی اولاد کو سلسلہ وار اپنا امام مانتے ہیں۔

شہزادہ کریم آغا خان 13 دسمبر1936 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پیدا ہوئے تھے۔

انھیں برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد ممالک نے اپنی شہریت دی تھی تاہم انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت فرانس میں گزارا۔

کسی مخصوص قطعہ زمین پر تسلط نہ رکھنے کے باوجود وہ ایک ایسے حکمران ثابت ہوئے جو اپنے پیروکاروں کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ان کی ہدایات حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔

کریم آغا خان کو ان کے دادا سر سلطان محمد آغا خان سوم نے روایات کے برعکس وصیت میں اپنے بیٹے شہزادہ علی خان کی جگہ اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔

سنہ 1957 میں آغا خان سوم کی وفات کے بعد کریم آغا خان نے 20 سال کی عمر میں اسماعیلی برادری کے روحانی سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ وہ آغا خانی یا اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں امام تھے اور آغا خان چہارم کے لقب سے پہچانے گئے۔

اس موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں اُن کی تخت نشینی کی رسومات ادا کی گئی تھیں۔ کراچی میں ان کی رسم تخت نشینی 23 جنوری 1958 کو ادا کی گئی تھی جس میں اس وقت کے صدر اسکندر مرزا اور وزیراعظم فیروز خان نون کے علاوہ کریم آغا خان کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ پیروکار بھی موجود تھے۔

انھوں نے ایک شاہانہ طرز زندگی گزاری، وہ بہاماس میں ایک نجی جزیرے، ایک لگژری کشتی اور ایک نجی طیارے کے مالک بھی تھے۔

فوربز میگزین کے مطابق سنہ 2008 میں شہزادے کی دولت کا تخمینہ ایک ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔ انھوں نے وراثت میں ملی دولت کو یورپ میں گھوڑوں کی افزائش نسل سمیت مختلف کاروبار میں سرمایہ کاری کر کے بڑھایا تھا۔

سنہ 1969 میں پرنس کریم آغا خان نے ایک انگریز خاتون سے شادی کی جن کا اسلامی نام سلیمہ رکھا گیا۔

سلیمہ سے شہزادہ کریم آغا خان کے تین بچے زہرہ آغا خان، رحیم آغا خان اور حسین آغا خان پیدا ہوئے۔ شادی کے 26 سال بعد سنہ 1995 میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔

سنہ 1998 میں کریم آغا خان نے دوسری شادی انارا نامی خاتون سے کی جن سے ایک بیٹا علی محمد آغا خان پیدا ہوا، مگر چند سال بعد سنہ 2011 میں اُن کی انارا سے بھی طلاق ہو گئی تھی۔

Share This Article