بلوچستان کے ضلع دُکی کے علاقے چمالانگ میں نامعلوم افراد نے 3 ٹرکوں کو نذرآتش کر دیا ہے۔
دُکی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے ٹرکوں پر فائرنگ کی گئی اور بعد میں ان کو نذر آتش کیا۔
اہلکار کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو ٹرک کوئلے سے لوڈ تھے جبکہ ایک ٹرک خالی تھا۔ آگ کی وجہ سے تینوں ٹرکوں کو شدید نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ چمالانگ میں کوئلے کے بڑے ذخائر ہیں جہاں سے کوئلہ نکال کر پنجاب اور دوسرے علاقوں میں فروخت کے لیے لے جایا جاتا ہے۔
چمالانگ اور ضلع دُکی کے دیگر علاقوں میں ماضی بھی کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کے علاوہ کوئلہ کانوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ دُکی میں کوئلہ کانوں پر ہونے والے ایک حملے میں 21 مزدور ہلاک ہوئے تھے۔
ایک اور واقعہ میں دکی کے علا قے مندے ٹک کے مقام پر کوئلے سے لوڈ ٹرک الٹنے سے 2 ڈرائیور ہلاک ہوگئے ۔
ایس ایچ او کے مطابق حادثہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا ہے ۔
ٹرک کا بریک فیل ہونے کی وجہ سے ٹرک گہری کھائی میں جاگری ہے ۔
دونوں لاشیں ٹرک سے نکال کر ہسپتال منتقل کردی گئیں۔
ہلاک ٹرک ڈرائیوروں کا تعلق ژوب کے علاقے تادین زئی سے ہے ۔
ہلاک ڈرائیوروں میں صابر خان ولد مرزا خان اور سمیع اللہ مرزا خان شامل ہیں۔
ہلاک ہونے والے دونوں ڈرائیور آپس میں بھائی ہیں۔