بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے پولیس نے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نوجوان شہیک اور فاروق کی جبری گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے سے انکارکردیا ہے ۔
ا س سلسلے میں سرگرم ومتحرک انسانی حقوق کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ 28 مئی کو کوئٹہ میں بلوچ طلباءشہیک اور فاروق کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔ ان کے اہل خانہ کی کوششوں کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندانوں کو ناانصافی کا سامنا ہے۔ ان کے اہل خانہ نے کل 3 جون صبح 12 بجے ڈی سی آفس کوئٹہ کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ براہ کرم ان کے احتجاج میں شامل ہوں اور ان کی حمایت کریں۔